.

شام کے ساحلی شہراللاذقیہ کی بندرگاہ پر لنگراندازتجارتی جہاز میں دھماکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے ساحلی شہر اللاذقیہ کی بندرگاہ پر لنگرانداز ایک تجارتی بحری جہاز کو دھماکے کے بعد آگ لگ گئی ہے۔دھماکے سے جہاز کو نقصان پہنچا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے منگل کی شب اطلاع دی ہے کہ جہاز میں دھماکے سے جانی نقصان بھی ہوا ہے لیکن اس نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔

گذشتہ ماہ اسرائیل کے ملکیتی تیل بردار ٹینکر پر عُمان کی ساحلی حدود میں ڈرون حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اس کے عملہ کے دو ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں ایک برطانوی اور ایک رومانوی شہری تھا۔

اسرائیل کے ایک سینیرعہدہ دار نے ایران پر اس ڈرون حملے میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کی ایک سینیرعہدہ دار نے سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یمن سے اسرائیل کے ملکیتی آئیل ٹینکر مرسراسٹریٹ پر ڈرون حملہ کیا گیا تھا اور اس میں ایران کا ہاتھ کارفرما تھا۔

اپریل میں شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے شام کی ساحلی حدود میں ایران کے ایک آئیل ٹینکرپر حملےکی اطلاع دی تھی۔اس حملے میں تین افراد ہلاک ہوگئے تھے اور جہاز میں آگ لگ گئی تھی۔مرنے والوں میں تیل بردار جہاز کے عملہ کے دوارکان بھی شامل تھے۔

اس وقت شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے وزارت تیل کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ ’’اس ٹینکر پر ڈرون سے حملہ کیا گیا تھا اور یہ لبنان کے پانیوں کی سمت سے آیا تھا۔‘‘