.

موبائل بیوٹی پارلر: سعودی خاتون نے ویمن موبائل سیلون قائم کرلیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک سعودی خاتون ریاض میں خواتین کے لیے موبائل سیلون قائم کرکے ایک منفرد کام کیا ہے۔ شادن القحطانی نے ریاض کے گلی محلوں میں ایک موبائل ویمن سیلون کا انتظام کرکے مملکت میں اپنی نوعیت کا پہلا بیوٹی سیلون قائم کیا ہے۔

ایک مقامی ٹی وی چینل کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے شادن نے کہا کہ اس نے موبائل ویمن بیوٹی سیلون کے قیام پر اس وقت غور شروع کیا جب مملکت میں خواتین کے کام کو وسعت دینے کےمنصوبے کے بارے میں بات ہو رہی تھی۔ اس کے ذہن میں موبائل ویمن سیلون کا آئیڈیا آیا۔ اس نے سوچا کہ ایسی خواتین جن کے پاس پارلر پر جانے کے لیے زیادہ وقت نہیں۔ یا وہ بچوں کی دیکھ بحال میں مصروف رہتی ہیں یا حاملہ ہیں، انہیں ان کے گھروں کے قریب یہ سروس مہیا کی جائے۔

شادن القحطانی نے خواتین کے سیلون کواس منصوبے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اسے بچپن ہی سے فیشن کے شعبے میں دلچسپی تھی۔ اپنے اس شوق کو پورا کرنے کے لیے اس نے اندرون اور بیرون ملک تعلیم حاصل کی اور مختص کورسز بھی کیے۔ اس نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر اس کے موبائل سیلون کو غیرمعمولی شہرت حاصل ہوئی ہے۔