.

سال 2019ء سے اب تک اسرائیل اور ایران کے کتنے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ چھ ماہ کے دوران میں بحری آئل ٹینکروں ، کارگو جہازوں اور دیگر نوعیت کے جہازوں پر حملوں میں شدت کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ کارگو کی صنعت کے ماہرین کو خوف ہے کہ اسرائیل اور ایران کے بیچ غیر علانیہ سمندری تنازع کے نتیجے میں دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے تجارتی راستوں میں سے بعض راستے عدم استحکام سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

برطانوی اخبار "ٹیلی گراف" کے تجزیے کے مطابق تہران اور تل ابیب کے درمیان تیزی سے بڑھتی ہوئی جنگ کے جلو میں کم از کم 20 شہری بحری جہازوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں بارودی سرنگیں، ڈرون طیارے اور کمانڈو فورسز کا استعمال کیا گیا۔

اخبار نے اپنے تجزیے میں انکشاف کیا ہے کہ 2019ء سے بحری جہازوں پر حملوں میں انتہائی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس سلسلے میں تازہ ترین حملہ ایرانی ڈرون طیارے کے ذریعے اسرائیلی کمپنی کے زیر انتظام تیل بردار جہاز پر کیا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب حملے میں کسی کی ہلاکت واقع ہوئی۔ اس کارروائی میں جہاز کے عملے کے دو ارکان مارے گئے۔ ان میں ایک کا تعلق رومانیہ سے اور دوسرے کا برطانیہ سے تھا۔

اسرائیلی بحری جہاز پر حملے کے بعد کی تصویر۔ تصویر بشکریہ ٹائمز آف اسرائیل
اسرائیلی بحری جہاز پر حملے کے بعد کی تصویر۔ تصویر بشکریہ ٹائمز آف اسرائیل

ایران اور اسرائیل کے بیچ بحری جہازوں پر حملوں کی غیر علانیہ جنگ سنجیدگی کے ساتھ 2 مئی 2019ء سے شروع ہوئی۔ اس روز ایرانی تیل بردار جہاز اچانک اپنے انجن پر سے کنٹرول کھو بیٹھا۔

اس کے بعد سے اب تک ایران اور اسرائیل کے متعدد بحری جہازوں کو میزائلوں، بارودی سرنگوں یا پراسرار دھماکوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

سال 2020ء میں ایرانی جہازوں پر کو کم از کم چھ مرتبہ حملے کیے گئے۔

میرسر سٹریٹ ٹینکر۔ [تصویر رائیٹرز]
میرسر سٹریٹ ٹینکر۔ [تصویر رائیٹرز]

رواں سال فروری سے حملوں کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

لندن میں ایرانی سفیر محسن بہار وند کا کہنا ہے کہ رواں سال ایرانی کارگو جہازوں کو 11 اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

اس کے مقابل اسی عرصے کے دوران میں اسرائیل کے ساتھ منسلک چار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی جہاز خارک۔ [تصویر رائیٹرز]
ایرانی جہاز خارک۔ [تصویر رائیٹرز]

واضح رہے کہ اسرائیل اور ایران نے گذشتہ مہینوں کے دوران میں گہرے سمندروں میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کا علانیہ تبادلہ کیا۔

اس سے قبل مغربی رپورٹیں یہ انکشاف کر چکی ہیں کہ اسرائیل نے گذشتہ ڈھائی سال کے دوران میں کم از کم 12 ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا۔