.

لبنان کو امداد کی فراہمی اصلاحات سے مشروط ہے: سعودی کابینہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے لبنانی عوام کی حمایت کا ایادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کو اس وقت تک مزید امداد فراہم نہیں کی جائے گی جب تک حکومتی ایوانوں میں اصلاحات متعارف نہیں کروائی جاتی۔

سعودی کابینہ کی جانب سے یہ بیان اس موقف کی تجدید ہے جو کہ لبنان کے لئے منعقد بین الاقوامی کانفرنس میں قائم کیا گیا تھا کہ بیروت کو اسی صورت میں امداد فراہم کی جائے گی جب موجودہ اور مستقبل کی حکومتیں ملک میں سنجیدہ اصلاحات کو یقینی بنائیں گی۔

سعودی کابینہ کے اجلاس کے اعلامیہ میں بتایا گیا کہ "اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ لبنان کو دی جانے والی امداد مستحق لوگوں تک پہنچے اور کرپٹ افراد کی پہنچ سے دور رہے۔"

اس سے قبل سعودی وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران نواز حزب اللہ کی جانب سے لبنان میں حکومتی حلقوں پر اپنا اثر ورسوخ استعمال کئے جانے کے سبب ملک بحران کا شکار ہے۔

شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کا کہنا تھا کہ ریاض حکومت کو بیروت بندرگاہ میں ہونے والے دھماکے کی تحقیقات مکمل نہ ہونے پر تشویش ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لبنان کو فراہم کی جانے والی امداد کا دارومدار وہاں پر سنجیدہ اصلاحات پر مشتمل ہے۔

اس سے قبل ماہ اپریل کے دوران بیروت سے منشیات اسمگلنگ کے کیسز میں اضافے کی وجہ سے لبنانی پھلوں اور سبزیوں کی سعودی عرب در آمد پر پابندی لگا دی گئی تھی۔یہ اقدام بیروت سے 50 لاکھ کیپٹاگون کی گولیاں سعودی عرب بھیجنے کی ناکام کوشش پر اٹھایا گیا۔