.

سعودی عرب: انگور کے گچھوں سے طائف کے کھیت اور باغات مزین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی سعودی عرب میں طائف کے کھیتوں میں جا بہ جا لگی انگور کی بیلوں پر لٹکے شہد سے میٹھے انگور کے گچھوں سے ان کھیتوں کی خوبصورتی اور رونق میں اور بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔

طائف کی زرخیز سرزمین پر کاشت ہونے والے انگوراپنے منفرد ذائقے اور مٹھاس کے لیے مشہور ہیں۔ پورے ملک سے لوگ یہاں کے انگوروں کے حصول میں دلچسپی لیتے اور اس سیزن میں طائف کا رخ کرتے ہیں۔

طائف میں ٹور گائیڈ عبدالرحمن الدعیلبی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کوبتایا کہ طائف میں انگور کی پیداوارکے 450 سے زائد فارم ہیں۔ وہ کہتے ہیں انگور موسم گرما کا پھل ہے جسے بازاروں میں چھ ماہ تک محفوظ کیا جاتا اور فروخت کیا جاتا ہے۔

انگور کیسے اگائے جاتے ہیں؟

"طائف کے انگور" اگانے کے طریقہ پر وہ کہتے ہیں انگور کی کاشت اس کی بیل کی جڑ سے کی جاتی ہے۔ انگور کی کاشت کے لیے مناسب اور موزوں مٹی درکار ہوتی ہے۔ جہاں کاشتکار تین مہینوں سے زیادہ عرصہ تک انگوروں کی سیرابی شروع کرتے ہیں۔

یہاں تک کہ انگور کے دانے آہستہ آہستہ بڑے ہونے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ گھچوں کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد "الرھاج"کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ یہ انگور پکنے کا مرحلہ ہوتا ہے اور اس کے بعد اسے مارکیٹ میں برآمد کیا جاتا ہے۔

مزید برآں وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کسانوں کو ہر سال انگور کے پود تقسیم کر کے اس کی کاشت کو ترقی دینے میں مدد دیتی ہے۔ اس سے فارموں کی تعداد اور فارموں میں موجود انگور کے پودوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔