.

’اونروا‘ کا غزہ میں اپنے مراکز کے قریب حماس کی سرنگوں پراظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین "یو این آر ڈبلیو اے" نے غزہ کی پٹی میں اس کے بنیادی ڈھانچے اور مراکز کے قریب حماس کی سرنگوں کی موجودگی پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔’اونروا‘ کا کہنا ہے کہ غزہ میں اس کے زیرانتظام چلنے والے ایک اسکول کے قریب بھی حماس نے سرنگیں کھود رکھی ہیں جو کسی بھی وقت خطرہ بن سکتی ہیں۔

’اونروا‘ کی طرف سےجاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اس کے اداروں کے دفاتر کے قریب حماس کی تیار کردہ سرنگوں کی موجودگی قابل مذمت ہے اور ریلیف ایجنسی غزہ میں انتظامیہ سے اس پر باقاعدہ اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرا چکی ہے۔

ایجنسی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کے ایک سکول پر قبضہ کیا گیا جس پر انہوں نے احتجاج کیا اور کہا ہے کہ حماس کی سرگرمیاں’UNRWA‘ عمارتوں کے تقدس اور غیر جانبداری کو مجروح کرتی ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق 10 سے 21 مئی کے درمیان غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں میں 260 فلسطینی شہید ہوئے جن میں جنگجو بھی شامل ہیں۔ اسرائیل میں غزہ سے راکٹ فائر کرنے سے پولیس اور فوج کے مطابق ایک فوجی سمیت 13 افراد ہلاک ہوئے۔

اسرائیل نے غزہ میں مسلح دھڑوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس کی سرزمین پر راکٹ داغنے کے لیے شہریوں کو ڈھال کے طورپر استعمال کرتے ہیں۔

منگل کے روز اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حماس نے اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک ٹیم کو غزہ شہر کے زیتون محلے میں یو این آر ڈبلیو اے اسکول کے قریب سرنگ تلاش کرنے سے روک دیا۔

کمیشن نے اشارہ کیا کہ ٹیم نے غزہ کی جنوبی پٹی میں رفاہ میں یو این آر ڈبلیو اے کے ایک اور اسکول میں جانے کے اپنے منصوبے کو منسوخ کردیا۔ خیال رہے کہ غزہ کا علاقہ 15 سال سے اسرائیلی محاصرے میں ہے اور اس کی دوملین سے زاید آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔