.

سعودی شہزادے نے اپنے قصیدے میں 7 فرماں رواؤں کے دستخط کیوں شامل کیے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی شاعر شہزادہ عبدالرحمن بن مساعد بن عبدالعزیز نے اپنے ایک قصیدے میں مملکت سعودی عرب کے سات فرماں رواؤں کے دستخطوں پر روشنی ڈالی ہے۔ قصیدے کا آغاز مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن کے دور سے ہوا اور اختتام خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دور پر آ کر ہوا ہے۔

شاعر شہزادہ عبدالرحمن نے اپنے قصیدے میں مملکت کے فرماں رواؤں کی جانب سے دستخط کردہ فیصلوں اور احکامات کے نتیجے میں مرتب اثرات اور ملک و عوام کی ترقی میں ان کے براہ راست اثرات کو بیان کیا ہے۔

شاعر نے چار اشعر پر مشتمل اپنے قصیدے کے ایک جانب مملکت کے فرماں رواؤں کے دستخطوں کے نمونے بھی شامل کیے ہیں۔ ان دستخطوں کا آغاز شاہ عبدالعزیز آل سعود سے ہوا۔ اس کے بعد شاہ سعود، شاہ فیصل، شاہ خالد، شاہ فہد، شاہ عبداللہ اور آخر میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دستخط ہیں۔

شہزادہ عبدالرحمن نے اپنے قصیدے کے اختتام پر حوالہ دیا ہے کہ مذکورہ فیصلوں میں ضرورت مندوں کو بڑے پیمانے پر امداد پیش کرنا شامل ہے۔

اس قصیدے کو سوشل میڈیا پر کافی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔