.

ننھی ’سفیرۂ مسکراہٹ‘ موذی بیماری سے لڑتے ہوئے زندگی کی جنگ ہار گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں عوام کے دلوں کی دھڑکن اور ننھی سفیرہ مسکراہٹ کہلانے والی بچی ریتاج الشہری طویل علالت اور موذی بیماری سے لڑتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گئی۔

شکستہ دل اور سوز سے بھرے آنسوؤں کے ساتھ، اداس آواز میں ننھی ریتاج الشہری کے والد نے اپنی بیٹی ’انسانیت کی سفیر‘ کا سوگ مناتے ہوئے کہا کہ ’اے خدا ہم ریتاج کی جدائی میں آپ سے صبر کی توفیق مانگتے اور صبر کی گواہی دیتے ہیں‘۔ لوگ اس کی بیماری کے دوران اس کی صبرو ہمت کی کہانی اور اس کے عزم کے شاہد ہیں اور اس کی موت پر آج ہر آنکھ اشکبار ہے۔

ریتاج الشہری کے والد الشہری نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریتاج 14 سال تک جسم میں ایک نایاب بیماری میں مبتلا رہنے اور لا علاج ہونے کے بعد خالق حقیقی سے جا ملی ہیں۔

یہ انوکھی بیماری ’پلمونری فائبروسس‘ کہلاتی ہے جوعام طور پر سانس لینے کی صلاحیت سے محروم ہونے، کمر اور ریڑھ کی ہڈی کے جھکنے، پورے جسم کی رنگت کی تبدیلی اور تھائی رائیڈ گلینڈ جیسے عوارض پر مشتمل ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کی زندگی کواس کےلیے "مصیبت" قرار دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ وہ 9 ماہ کی تھی جب اس کے جسم کا ٹمپریچر بڑھنا شروع ہوا۔ اسے اسپتال میں معائنے کے لیے لےجایا گیا جہاں اس کے مرض کی تشخیص میں کئی ماہ لگے۔ اسے بتایا گیا کہ بچی کی حالت خطرناک ہے۔ وہ پانی کی کمی کا شکار ہے۔ ویاں سے ریتاج کی تکلیف اور اس کے خاندان کی مسلسل آزمائش کا کئی سال پرمحیط سفر شروع ہوا۔ اسے ایک سے دوسرے اسپتال لے جایا جاتا اور جگہ جگہ اس کے طبی معائنے کرائے جاتے۔ آخر کار اس کی بیماری ظاہر ہوئی جس نے اس کی زندگی اس سے چھین لی۔

ریتاج الشھری
ریتاج الشھری

مسکراہٹ کی سفیرہ

ریتاج کے والد نے مزید کہا کہ ہمیں اس کی کہانی کو سوشل میڈیا پر شائع کرنے کی کوئی خواہش نہیں تھی لیکن مسکراتے چہرے کےساتھ اس کے اصرار نے ہمیں پوری طاقت سے اس کی حمایت کی تاکہ انسانیت احترام کا پیغام لوگوں تک عام کیا جائے۔ کم سن ہونے کے باوجود اس کے حوصلے ہمیشہ بلند رہے۔ وہ اکثر کہتی کہ میں ایک مضبوط انسان ہوں۔ ایک انسان کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہرسکتی۔ اصل معذوری فکر اورسوچ کی معذوری ہے۔ مُجھے آخر کار اللہ کریم اس بیماری سے شفا عطا کرےگا۔ میں اپنی بیماری کی وجہ سے روناپیٹنا شروع کروں تو وہ مجھے کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔

ريتاج الشهري
ريتاج الشهري

حسرت و الم کے آنسو

ریتاج دوسرے بچوں کی طرح زندگی نہیں گذارسکتی تھی۔ آکسیجن ٹیوب اس کے ساتھ جڑی رہتی تھی۔ اسے کھیلنے اور چلنے سے روکتی تھی۔اس کے باوجود وہ زندگی کی جنگ میں ضدی تھی۔ اس کا پیغام سفید کبوتروں ، مسکراہٹ اور امید کے پیغامات نے بھرپور تھا اور اس بیماری نے اس کی زندگی اجیرن اور پڑھائی بھی روک دی تھی مگر وہ ہرحال میں صبر کی پیکر اور امید کی پیامبر تھی۔ وہ جہاں جاتی امید اور زندگی کا پیغام دیتی۔

بیٹی کی جدائی کے صدمے سے نڈھال ریتاج کے والد نے ایک لمحے کے لیے بات کرنا بند کر دی۔ اس کی آنکھوں سے حسرت و الم کے اشکوں کی ایک لڑی بہہ نکلی مگر جلد ہی اس نے اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے ریتاج کے لیے ابدی جنتوں کی دعا کی۔

ريتاج الشهري
ريتاج الشهري

آخری مسکراہٹ

اس نے مزید کہا کہ کاش میں نے اس کی آواز سنی ہوتی۔ وہ 25 دنوں سے کوما میں تھی۔ ایک موقع پر وہ اچانک اٹھی اور میری اوراپنی ماں کی طرف انگلیاں اٹھائیں گویا کہہ رہی ہو کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے ہم اکٹھے ہیں۔ وہ ہمیں اپنے پاس دیکھ کر خوش تھی۔ اس کے چہرے پر ایک بار پھر مسکراہٹ آئی مگر یہ اس کی آخری مسکراہٹ تھی جس کے بعد وہ پھر کومے میں چلی گئی۔ الشہری نے کہا کہ ہم صبر کریں گے اور اس کا اجر پائیں گے۔