.

لبنان میں ایندھن کی کم یابی کابحران شدیدتر؛فوج کے ذخیرہ اندوزگیس اسٹیشنوں پرچھاپے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں ایندھن کی قلت کا بحران شدید تر ہوگیا ہے اور لبنانی فوج نے صورت حال کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لیے اب بند گیس اسٹیشنوں کے خلاف چھاپا مار کارروائیاں شروع کردی ہیں اور وہاں سے ذخیرہ شدہ گیس کے کنستروں برآمد کرکے ان کی خود مکینوں میں تقسیم شروع کردی ہے۔

لبنانی فوج نے بیسیوں گیلن تیل ضبط کیا ہے۔گیس اسٹیشنوں کے مالکان نے مبیّنہ طور پر پلاسٹک کی ان گیلنوں کو چھپا رکھا تھا اور وہ انھیں انتہائی ضرورت مند شہریوں کو مہنگے داموں فروخت کرنا چاہتے تھے۔

لبنان بھرمیں اس ہفتے کے دوران میں ایندھن مزید کم یاب ہوگیا ہے،جنریٹروں کو چلانے کے لیے بھی پیٹرول اور ڈیزل دستیاب نہیں اور گیسولین اسٹیشنوں پر لوگوں کی لمبی قطاریں نظرآئی ہیں۔شہروں میں ایندھن کی رسد میں کمی کے بعد اس وقت بلیک مارکیٹ کا دھندا عروج پر ہے۔گیس اور ڈیزل کو کئی گنا زیادہ قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے جبکہ بعض گیس اسٹیشنوں پر کارکنان رشوت لے کر ڈرائیوروں کو اضافی ایندھن فروخت کررہے ہیں۔

لبنان میں جاری اس بحران کو اختتام ہفتہ پر مرکزی بنک کی جانب سے زرتلافی پرایندھن کی فروخت ختم کرنے کے اعلان سے مہمیزملی ہے۔مرکزی بنک کا کہنا ہے کہ وہ ایندھن کی درآمدات کے لیے مزید رقوم مہیا کرسکتا ہے اور نہ اس کو زرتلافی پر فروخت کرسکتا ہے۔

حکام نے ملک بھر میں بجلی کی ترسیل میں کمی کے بعد اسپتالوں ، بیکریوں ، ضروری اشیاء فروخت کرنے والی دکانوں اور کاروباروں سے کہاہے کہ وہ اپنے کاروباروں کو محدود کردیں یا انھیں مکمل طور پر بند کردیں۔

لبنان بھر میں ہفتے کے روز بھی گیس اسٹیشنوں کے باہر سیکڑوں کاروں کی قطاریں دیکھی گئی ہیں جبکہ تیل کی رسد محدود ہونے کی وجہ سے گیس اسٹیشنوں پرلوگوں کے درمیان لڑائی جھگڑے معمول بن چکے ہیں۔

ایندھن کی اس کم یابی کے ساتھ لبنانی شہریوں کو گرمی کی بدترین شدت کا بھی سامنا ہے۔بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔لوگ گرمی سے بچنے کے لیے اپنی چھتوں پر یا بالکونیوں میں سو رہے ہیں۔

لبنان میں اقتصادی بحران سنگین صورت اختیارکرچکا ہے اور گذشتہ دو سال میں کرنسی کی قدر میں 90 فی صد تک کمی واقع ہوچکی ہے۔اس کے نتیجے میں ملک میں ایندھن ، بجلی اور ادویہ کی عدم دستیابی بڑے بحران کی شکل اختیار کرگئی ہے جبکہ ملک کی 78 فی صد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی بسر کررہی ہے اور کاروباروں سکڑ کر رہ گئے ہیں یا وہ بہ مشکل گزارہ کررہے ہیں۔