.

لبنان کے اسپتالوں میں ایندھن کی شدید قلت، پٹرول اسٹیشنوں پر لمبی قطاریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں ایندھن کا بحران دن بدن بگڑتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف محکمہ صحت کے حکام نے کہا ہے کہ ایندھن کے بحران سے ملک میں صحت اور سلامتی کی صورت حال پر خطرناک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

اسی تناظر میں لبنان میں پرائیویٹ اسپتالوں کے سنڈیکیٹ کے سربراہ سلیمان ہارون نے کل جمعہ کو بتایا کہ 4 اسپتالوں میں دو دن کے اندر ایندھن ختم ہو جائے گا۔

اسپتال سنڈیکیٹ نے خبردار کیا کہ ایندھن کی کمی صحت کے شعبے کے لیے تباہی کا باعث بنے گی لیکن کوئی جواب نہیں دے رہا۔

جمعہ کو وزارت توانائی اور پانی کی جانب سے قیمتوں کے سرکاری اعلان کے انتظار میں بیشتر گیس اسٹیشنوں نے اپنے دروازے بند کر دیے جبکہ چند گیس سٹیشنوں نے جو کام جاری رکھے ہوئے ہیں پر سینکڑوں کاریں کئی کلومیٹر تک کھڑی دیکھی جاسکتی ہیں

لبنانی فوج نے ایک بیان میں کہا ہےکہ آرمی کمانڈر جوزف عون اور سیکیورٹی سروسز کے کئی رہ نماؤں کے درمیان ملاقات میں ملک میں معاشی بحران اور احتجاج پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں آرمی کمانڈر کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل پبلک سیکورٹی عباس ابراہیم، ڈائریکٹر جنرل آف اسٹیٹ سیکیورٹی، ڈائریکٹر جنرل انٹرنل سکیورٹی فورسز عماد عثمان، فوج میں ڈائریکٹر انٹیلی جنس شامل تھے اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اجلاس میں پٹرول اور ڈیزل ایندھن کی قلت اور اس کے نتائج، احتجاج کے اقتصادی بحران پر اثرات اور عوامی مظاہروں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ میٹنگ میں آپس میں ہم آہنگی جاری رکھنے اور اقدامات اٹھانے پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ سیکیورٹی کےمسائل کو رونما ہونے سے روکا جائے۔

اور لبنان میں گیس اسٹیشنوں کے سامنے لمبی قطاروں میں کھڑی گاڑیوں کے مناظر ایک بار پھر سامنے آئے ہیں۔ مرکزی بینک نے بدھ- جمعرات کی رات اعلان کیا کہ اس نے شورش زدہ ملک میں ایندھن کی سبسڈی ختم کر دی ہے۔

وزارت توانائی اور پانی کی جانب سے سرکاری قیمتوں کے اعلان کے انتظار میں جمعہ کے روز زیادہ تر گیس اسٹیشن بند کر دیے گئے جبکہ چند گیس اسٹیشن جنہوں نے کام جاری رکھا پرایندھن کے حصول کے لیے سینکڑوں کاریں کئی کلومیٹر تک کھڑی نظر آئیں۔