.

بحران کا شکار لبنانی عوام کا حزب اللہ کے خلاف انتقال بڑھنے لگا،زندگی اور بھی مشکل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس میں دو رائےنہیں کہ لبنان کے کچھ علاقے ایرانی نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے زیراثر ہیں۔ ملک میں پائے جانے والے معاشی بحران کا ان علاقوں میں زیادہ اثر نہیں پڑا مگر ملک کے دوسرے علاقے سنہ 2019ء کے موسم خزاں کے بعد بدترین معاشی گرداب کا شکار ہیں۔ حزب اللہ کی پالیسیوں کی وجہ سے لبنان کی کرنسی لیرہ کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں قیمت غیرمعمولی حد تک گرگئی ہے اور مہنگائی اور بے روزگاری اپنے عروج پر ہے۔

دوسری جانب لبنانی عوام حزب اللہ کی حمایت سے پارلیمنٹ کے رکن بننے والے نام نہاد سیاسی لیڈروں سے سخت نالاں ہیں اور عوام کی طرف سے ان کے خلاف غم وغصے اور انتقام میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انور جمعہ
انور جمعہ

وادی البقاع میں علی النھری قصبے میں نوجوانوں کے ایک گروپ نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرہ حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ انور جمعہ کے گھر کے باہر ایک دھرنے میں تبدیل ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں مظاہرین کو دھرنا دیے دیکھا جا سکتا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ رکن پارلیمنٹ انور جمعہ کی طرف سے علاقے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اوراہل علاقہ کو درپیش مشکلات سے نجات دلانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کی ہیں۔خاص طورپر حالیہ بجلی بحرن اور ایندھن بحران کے دوران انورجمعہ نے کوئی قابل ذکراقدام نہیں کیا۔

حسین الحاج حسن
حسین الحاج حسن

اس کےاگلے روز اسی علاقے میں ابتر معاشی صورت حال کے خلاف شہریوں نے ایک اور مظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرہ علی النھری میں ہونے والی احتجاجی سرگرمیوں میں حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک حسین الحاج حسن کی شرکت کے خلاف تھا۔ شہریوں نے احتجاج کے دوران مذکورہ رکن پارلیمنٹ کووہاں سے نکلنا پڑا۔ اس موقعے پرفوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔