.

خامنہ ای کے خلاف عدالتی کارروائی کا ارادہ رکھنے والے ایرانی وکلاء اور سماجی کارکنان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تہران میں ایرانی سیکورٹی فورسز نے کل ہفتے کے روز کم از کم 5 وکیلوں اور 2 سماجی کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ ان تمام افراد نے ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای اور کرونا کی روک تھام کے قومی مرکز کے ارکان کے خلاف عدالتی کارروائی کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ ان لوگوں کا موقف ہے کہ رہبر اعلی اور متعلقہ حکام کی غفلت کے نتیجے میں ہزاروں ایرانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

خبروں سے متعلق ویب سائٹ "ایران انٹرنیشنل" کے مطابق ساتوں افراد کو گرفتاری کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

سیکورٹی فورسز نے ان افراد کی بعض ذاتی اشیاء بھی قبضے میں لے لیں جن میں موبائل فون شامل ہے۔

تقریبا 7 ماہ قبل علی خامنہ ای نے کرونا کے خلاف برطانوی اور امریکی ویکسین کی درآمد پر پابندی عائد کر دی تھی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس طرح گذشتہ سات ماہ میں رہبر اعلی 35 سے 89 ہزار ایرانیوں کی موت میں براہ راست ملوث ہیں۔

یاد رہے کہ سابق شاہ ایران کے بیٹے رضا پہلوی نے ہفتے کے روز عالمی ادارہ صحت WHO کے ڈائریکٹر جنرل ادہانوم گیبریوسس کو بھیجے گئے ایک خط میں مطالبہ کیا تھا کہ ایرانی عوام کے خلاف خامنہ ای کے اس دانستہ 'قتل عام' کی فوری تحقیقات کرائی جائیں۔

پہلوی نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ انسانیت کے خلاف ایرانی حکومتی نظام کا یہ "جرم" دنیا کی توجہ کا مستحق ہے اور ایرانی عوام کی مدد کی جانی چاہیے۔

سابق شاہ کے بیٹے نے واضح کیا کہ کرونا کی وبا کے دوران ایرانی نظام کا رویہ ایرانی عوام کے خلاف قاتل مہم کی عکاسی کرتا ہے۔