.

سعودی عرب : کرونا کے باوجود نئی متنوع صنعتوں میں سرمایہ کاری جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں نئی متنوع فیکٹریوں کی تعداد 12 تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں مقامی فیکٹریوں کے علاوہ امریکی اور کوریائی فیکٹری اور ملائیشیا کی شراکت سے ایک فیکٹری شامل ہے۔ یہ بات سعودی اتھارٹی فار انڈسٹریل سِٹیز اینڈ ٹکنالوجی زونز (مُدن) کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتائی گئی۔

مذکورہ اتھارٹی مملکت کی معیشت میں ایک اہم ترین عنصر ہے۔ اس کا مقصد صنعتی شہروں کے قیام کے حوالے سے حکومتی رجحانات پر عمل درامد کرنا اور ان کے لیے بیرونی سرمایہ کاری فراہم کرنا ہے۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق "مُدن" نے جدہ میں تیسرے صںعتی شہر میں امریکی فیکٹریGCPS کی جانب سے 15 کروڑ ریال (4 کروڑ ڈالر) سے زیادہ کی سرمایہ کاری حاصل کی۔ یہ فیکٹری عالمی معیار اور پیمائش کے مطابق پائپ تیار کر رہی ہے۔

اسی طرح مدن اتھارٹی مذکورہ صنعتی شہر میں کوریا کی فیکٹری "foamtech" کی جانب سے 9.5 کروڑ ریال (2.5 کروڑ ڈالر) کی سرمایہ کاری میں کامیاب رہی۔ یہ فیکٹری 'اسٹیل فوم' تیار کر رہی ہے جو عسکری صنعت میں استعمال ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں "کیمیکل فورم' بھی تیار کیا جا رہا ہے جو تعمیرات میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی طرح فیکٹری میں بنایا جانے والا "پولیمر فوم" تعمیرات میں کام آتا ہے۔

ادھر "البحر العربی فِش کمپنی" نے جازان صوبے میں ایک فیکٹری قائم کی ہے۔ فیکٹری میں 25 کروڑ ریال (6.6 کروڑ ڈالر) کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں 200 ملازمتیں بھی سامنے آئیں۔

مدن کی کوششوں سے دمام میں تیسرے صںعتی شہر میں "وقاية الخليج" کمپنی کی جانب سے 15 کروڑ ریال کی سرمایہ کاری سے ایک فیکٹری قائم کی گئی۔ ملائیشیا کی شراکت داری کے ساتھ قائم ہونے والی یہ فیکٹری مملکت میں نائٹرائل سے "طبی دستانے" بنانے والی پہلی فیکٹری ہے۔ فیکٹری کی پیداواری صلاحیت سالانہ تقریبا ایک ارب دستانے ہے۔ فیکٹری سے کم از کم 50 ملازتیں وجود میں آئی ہیں۔

ریاض کے شمال میں سدیر انڈسٹریل سٹی میں "مسار الإبداع" فیکٹری قائم کی گئی۔ عالمی کمپنیوں کی شراکت داری میں یہ فیکٹری 10.3 کروڑ ریال (2.7 کروڑ ڈالر) کی سرمایہ کاری بنائی گئی ہے۔ فیکٹری میں صںعتی اور طبی سیکٹروں میں کام کرنے والوں کے لیے یونیفارم تیار کیے جاتے ہیں۔

سعودی اتھارٹی فار انڈسٹریل سِٹیز اینڈ ٹکنالوجی زونز (مُدن) ایسے صنعتی شہروں کے انتظام اور انہیں ترقی دینے پر کام کر رہی ہے جو پائیدار ترقی اور اقتصادی ماحول کے حامل ہوں۔ اس کا مقصد سرمایہ کاری کے مواقع کو سہارا دینا اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر صںعتی مسابقت کو مضبوط بنانا ہے۔