.

عراق کے شیعہ عالم کی ایران کی مداخلت پرتنقیداور تہران نوازالحشد کے لیڈرکا جوابی وار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے بااثر شیعہ رہ نما آیت اللہ علی سیستانی کے ایک قریبی مصاحب نے ملک میں ایران کی مداخلت اور اثرورسوخ پر بین السطور کڑی تنقید کی ہے۔اس کے ردعمل میں ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی (پی ایم یو) کے ایک لیڈر نے سخت بیان جاری کیا ہے۔

ایران نے حالیہ برسوں میں اپنے ہمسایہ ملک عراق میں اپنااثرورسوخ بڑھادیا ہے۔اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ ایران نوازشیعہ ملیشیاؤں پرمشتمل نیم فوجی فورس الحشدالشعبی کو اب عراق کی سرکاری سرپرستی حاصل ہے اور وہ ملک کی بڑی سیاسی اور فوجی بالادست قوت شمار ہوتی ہے۔

ناقدین الحشدالشعبی پرعراق میں ایران کا مسلح ونگ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔اس پر2019 کے آخرمیں بغداد میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک میں حصہ لینے والے مظاہرین کے قتل اور اغوا کے الزامات بھی عاید کیے گئے تھے۔

ہفتہ کے روز ایک مذہبی تقریب میں شیخ حامد الیاسری نے پی ایم یو یا ایران کا براہِ راست نام لیے بغیران پرتنقید کی ہے۔ الیاسری نے کہا کہ ’’قابلِ احترام شخصیت امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے ہمیں سکھایا کہ جو کوئی اپنے وطن کا وفادار نہیں،وہ غدار اور مکروہ ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’سرحدوں سے باہر سے آنے والے تمام صلاح مشوروں، تمام آوازوں اور مؤقف کا امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے نظریے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘‘

ان کے اس بیان پرالحشد الشعبی میں شامل شیعہ مسلح دھڑے عصائب اہل الحق کے سربراہ قیس الخزعلی نے سخت ردعمل کااظہار کیا ہے۔عصائب اہل الحق کو پی ایم یو میں ایک طاقتور دھڑا خیال کیا جاتا ہے۔

فیس الخزعلی نے اتوار کوایک ٹویٹ میں بعض مذہبی شخصیات پر الزام لگایا کہ ’’وہ قوم پرستی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتی ہیں اوروہ اپنے خیالات کو امام حسین رضی اللہ عنہ سے جوڑ کر اپنے منصوبوں کو پایہ تکمیل کو پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ آیت اللہ علی السیستانی کوعراق میں اہلِ تشیع کی سب سے بڑی مذہبی اتھارٹی سمجھاجاتا ہے۔وہ بڑی خاموشی سے خلوت نشینی کی زندگی گزاررہے ہیں اورسیاست میں شاذونادرہی مداخلت کرتے یا کوئی بیان جاری کرتے ہیں۔

جون 2014 میں انھوں نے ایک تاریخی فتویٰ جاری کیا تھا۔اس میں عراقیوں سے مطالبہ کیا گیا تھاکہ وہ داعش کے کے خلاف ہتھیاراٹھالیں۔تب انتہاپسند داعشی جنگجوؤں نے عراق کے شمال میں واقع کم وبیش تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں سے عراقی فورسز کو نکال باہر کیا تھا-ان کے اس فتویٰ کے بعد شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی معرض وجود میں آئی تھی۔اس نے داعش کے خلاف جنگ میں اہم کردارادا کیا تھا۔