.

عسیر کے موسمی پھلوں کا روایتی مقامی تحائف کے ساتھ مقابلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

موسم گرما کے دوران سعودی عرب کے علاقے عسیر کا سفر کرنے اور سیاحت کے لیے آنے والے یادگار کے طورپر واپسی پر ملبوسات، تاریخی، تہذیبی اور آرٹس کے مختلف نمونے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں مگرتحائف میں صرف روایتی آرٹس کے نمونے ہی نہیں بلکہ عسیر کے پھل بھی شامل ہوگئے ہیں۔ عسیر کی سیرکو آنے والے شہری واپسی پراپنے ساتھ اس علاقے کے موسمی پھلوں کو لے جانے میں بھی دلچسپی لیتے ہیں اور وہ یہ پھل اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو پیش کرتے ہیں۔

موسم گرما کے دوران عسیر کے زرعی فارموں میں کئی اقسام کے پھل کاشت کیے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ اہم انجیر، انار، انگور، آڑو اور دیگر پھل شامل ہیں۔ ہرعلاقے کے پھلوں کا ذایقہ ان کی زمین کی ساخت پر منحصر ہے۔ عسیر کی زرخیر زمین پر کاشت ہونے والے پھلوں کا اپنا ہی ذائقہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں پر سال بھر میں مختلف موسموں میں مختلف پھل کاشت کیے جاتے ہیں۔

عسیر کی سیر کی دیگر وجوہ میں ایک اہم سبب یہاں کے پسندیدہ میٹھے موسمی پھل بھی ہیں جو لوگوں کے لیے ایک خاص کشش رکھتے ہیں۔ کاروباری حضرات اور سرمایہ کار بھی یہاں کے پھلوں کی خریداری میں دلچسپی لیتے ہیں اور اپنے کاروبار کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

عسیر میں سعودی عرب کی وزارت ماحولیات وزراعت کے ڈائریکٹر جنرل انجنییر عبداللہ الویمنی نے کہا کہ حکومت عسیر میں کسانوں اور کاشت کاروں کو موسمی پھلوں کی پیداوار اور معیار بہتر بنانے کے لیے ہرممکن مدد بھی فراہم کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو فراہم کی جانے والی امداد سے زرعی موسموں میں فصلوں اور پھلوں کی پیداوار کے مارکیٹ پر اثرات واضح طورپر دیکھے جاسکتے ہیں۔ فصلوں اور پھلوں کو طویل مسافت تک لے جانے اور ان کی قیمتوں میں اضافہ ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے اور عسیر کے پھل ،سبزیاں اور فصلیں اس مسئلے کے حل میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سال 2020ء کے دوران عسیر کے علاقے میں زیرکاشت زرعی رقبہ 17405 اعشاریہ 7 ہیکٹر تھا۔ یہ رقبہ مملکت کے کل زرعی رقبے کا صفر اعشاریہ9 فی صد ہے۔عسیر میں زارت کے قابل رقبہ 7،4864 ہیکٹر ہے جو کہ مملکت میں کل زرعی اراضی کا 2.4 فی صد ہے۔

زرعی پیدوار کے اعدادو شمار کے مطابق سال 1441ھ کے دوران عسیر کا علاقہ پھلوں کی پیداوار میں مملکت میں پہلے نمبر پر رہا اور اس سال مجموعی طورپر اس علاقے میں 11086ٹن پھل کاشت کیے گئے۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر یہ علاقہ سبزیوں کی کاشت کی وجہ سے بھی سرفہرست رہا جہاں کاشت شدہ سبزیوں کی مقدار 39,16 ٹن تھی۔