.

سعودی خواتین فوجی صنعت میں دوستانہ ماحول میں کام کرنے لگیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی خواتین فوجی صنعتوں کے میدان میں زبردستی داخل ہوگئی ہیں۔ ملٹری انڈسٹری کمپنیاں دفاعی مشینیں اور آلات کی تیاری کے لیے خواتین انجینیرز اور ٹیکنیشنز کی موجودگی سے فائدہ اٹھانے کی خواہاں ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے انڈسٹری سے دور رہ کر کام کرسکتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سعودی اتھارٹی برائے ملٹری انڈسٹریز نے سعودی عرب کی یونیورسٹیوں کے ساتھ ملازمت اور تعاون کے پروگراموں کے ذریعے سعودی خواتین کی مختلف ملازمتوں کا کوٹا سال 2030ء تک 50 فیصد تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق ملٹری انڈسٹری کے شعبے میں 2030 تک روزگار کے تقریبا ایک لاکھ مواقع پیدا ہوں گے۔

اس سلسلے میں خاتون انجینیر انتصار الشمری جو 10 سال قبل قائم کردہ پرنس سلطان سینٹر فار ڈیفنس سٹڈیز اینڈ ریسرچ میں کام کرتی ہیں نے انکشاف کیا کہ وہاں کام کرنے والی خواتین انجینیرز کی تعداد مختلف شعبوں میں 25 سے زائد ہے۔ یہ خواتین لیزر ، ریڈار اور سافٹ وئیر جیسے شعبوں میں کام کرتی ہیں۔

انجینیر غادہ الفقی نے کام کے تجربے کو شاندار قرار دیا۔اس کا کہناتھا کہ مرد اور خواتین انجینیرز کے درمیان تجربات کا تبادلہ مثبت ماحول میں کیا جا رہا ہے اور یہ وژن 2030کے اہداف کے حصول کا حصہ ہے۔

ریموٹ کنٹرول اسٹیشن پروڈکٹ منیجر اسما الزہرانی نے فوجی شعبے میں شمولیت پر فخر کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ شعبہ تیزی کے ساتھ ملک میں ترقی کررہا ہے۔