.

قاسم سلیمانی کی تقلید کروں گا : ایرانی وزارت خارجہ کے لیے نامزد امیدوار کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے امیدوار برائے وزارت خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے باور کرایا ہے کہ وہ ایرانی خارجہ پالیسی کے میدان میں القدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کی روش اپنائیں گے۔ یہ بات ایرانی پاسداران انقلاب کی قریبی خبر رساں ایجنسی فارس نے بتائی۔

حسین امیر کا یہ بیان ایرانی پارلیمنٹ میں ایوان کے ارکان سے ملاقات کے موقع پر سامنے آیا۔

فارس نیوز ایجنسی نے رکن پارلیمنٹ غلام رضا منتظری کے حوالے سے بتایا کہ وزیر خارجہ کے لیے نامزد امیدوار حسین امیر کا کہنا تھا کہ ان کے زیادہ تر تجربات کا تعلق اُس عرصے کے ساتھ ہے جس میں وہ قاسم سلیمانی کے معاون رہے ،،، اور وہ خارجہ پالیسی کے شعبے میں قاسم سلیمانی کا راستہ اختیار کریں گے۔

حسین امیر عبداللہیان 2016ء سے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف کے خصوصی معاون برائے بین الاقوامی امور کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ وزارت خارجہ میں عرب و افریقی امور کے معاون کے عہدے پر فائز رہے۔ حسین ابراہیم وزارت خارجہ میں ایرانی پاسداران انقلاب کے آدمی کے طور پر جانے گئے۔ صدر ابراہیم رئیسی نے 11 اگست کو وزیر خارجہ کے منصب کے لیے حسین کے کاغذات نامزدگی پیش کیے۔

یاد رہے کہ 3 جنوری 2020ء کو بغداد کے ہوائی اڈے کے نزدیک امریکی ڈرون حملے میں مارا جانے والا قاسم سلیمانی مشرق وسطی میں ایرانی خارجہ پالیسی کا ذمے دار تھا۔ اس پالیسی کے تحت خطے میں ایران کی ہمنوا ملیشیاؤں کو سپورٹ کیا گیا۔

حسن روحانی کی حکومت میں وزیر خارجہ کے منصب پر فائز محمد جواد ظریف ایک انٹرویو کی آڈیو ریکارڈنگ میں یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ ایرانی خارجہ پالیسی کا 98% حصہ قاسم سلیمانی کے ذریعے متعین کیا گیا۔ یہ انکشاف ظریف کے ایک متنازع انٹرویو کی اِفشا ہونے والی آڈیو فائل میں سامنے آیا تھا۔