.

اونٹوں کی مارکیٹ ویلیو کا اندازہ لگانے کےلیے کلب اور اتھارٹی کے درمیان معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اونٹ کلب اور سعودی عرب کی اتھارٹی فار ایکریڈیٹڈ ویلیوئرز نے ایک مفاہمت کی یادداشت کے مسودہ پر دستخط کیےہیں۔ اس کا مقصد اونٹوں کی مارکیٹ ویلیو کا اندازہ لگانے کے لیے منظور شدہ معیار کو ترقی دینا ہے۔ کلب اور اتھارٹی ان تمام چیزوں کی وضاحت کرنے پر متفق ہیں جو معیارات کی ترتیب کو آسان بنانے کے لیے درکار ہیں۔

یاداشت میں اونٹ کلب ایک مشاورتی فرم یا ایک ممتاز کنسلٹنسی کے ساتھ معاہدہ کرنا شامل ہےتاکہ مملکت کے تمام علاقوں میں اونٹ کے شعبے کے لیے مارکیٹ سٹڈی کی تیاری کی جا سکے۔ اس کے علاوہ اونٹ کمیشن کے مطالعہ کا دائرہ کار طے کرنے اور پیداواری معیار کا جائزہ لینے پر اتفاق شامل ہے۔

تعاون کے شعبوں کے مطابق اونٹ کمیشن اونٹوں کو حیاتیاتی اثاثوں اور ان میں شامل ناقابل تسخیر اثاثوں کے لیےقابل اعتماد پیشہ ور رہنما کا تعین کرے گا۔ اس میں اچھی شہرت کے حامل اونٹ مالکان کا تعین شامل ہے۔ اتھارٹی اونٹوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک تربیتی پروگرام تیار کرے گی اور نظام کے مطابق اونٹ کو منقولہ جائیداد کی شاخ میں شمولیت کی شرائط بیان کرے گی۔

اونٹ کلب کی اونٹ کی مارکیٹ کی تشخیص کے میدان میں تشخیص کاروں کے ساتھ تعاون بڑھانے اور اونٹ سیکٹر کے بارے میں قابل اعتماد معلومات کی بنیاد پر ان کی مارکیٹ ویلیو میں تعاون بڑھاناہے۔ یادداشت اس وقت سامنے آئی جب اونٹ کلب اور اتھارٹی کے ساتھ اپنے تعاون سے مستقل طور پر فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ اتھارٹی اونٹ کی ویلیو کی تشخیص میں مہارت رکھتی ہے اور اس کے تجربے کی وجہ سے خصوصی مشاورت فراہم کرنے اور تحقیق اور ریفریڈ اسٹڈیز تیار کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔

یادداشت پر کل بدھ کو اونٹ کلب کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انجینیر بندر بن علی القحطانی اور سعودی اتھارٹی فار ایکریڈیٹڈ ریذیڈنٹس کے قائم مقام سیکرٹری جنرل فیصل بن بدر المندیل نے دستخط کیے۔ اس یاداشت کا مقصد اونٹوں کو مملکت کے ثقافتی ورثے اور معاشی ورثہ کے طور پر اپنانے اور ان کے فروغ میں ایک دوسرے کےساتھ تعاون کرنا ہے۔

سعودی اتھارٹی فار ایکریڈیٹڈ ریذیڈنٹس کے قائم مقام سیکرٹری جنرل انجینیر فیصل بن بدر المندیل نے کہا کہ اس میمورنڈم پر دستخط کرنا مختلف سرکاری ایجنسیوں کے ساتھ کاروباری سرگرمیوں کو تیز کرنے اور انہیں اس میں شامل کرنے کی، ان کی شراکت داری کی توسیع ہے تاکہ مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کے مطابق مملکت میں اونٹوں کی پیدوار بڑھائی جا سکے۔