.

لبنان میں ایران سے بھیجا گیا تمام ایندھن شیعہ تاجروں نےخرید کرلیا:رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں جاری ایندھن کے شدید بحران پر قابو پانے کے لیے ایران کی جانب سے بھیجی گئی تیل کی پہلی کھیپ کو شیعہ تاجروں کے ایک گروپ نے خرید کر لیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی نورنیوز نے یہ خبر شیعہ ملییشاحزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کے جمعرات کو ایک بیان کے چند گھنٹے کے بعد دی ہے۔انھوں نے کہا تھا کہ ایران لبنان میں جاری ایندھن کے بحران پر قابو پانے کے لیے تیل کی پہلی کھیپ آج بھیج رہا ہے۔

نورنیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ تمام تیل لبنان کے شیعہ تاجروں کے ایک گروپ نے خرید کر لیا ہے۔ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے قریب سمجھے جانے والی اس نیوز ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ لوڈنگ کے مرحلے ہی سے تیل یا مال خریدار کی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔

لبنان میں حزب اللہ کے مخالفین نے اس اقدام کے سنگین نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔سابق وزیراعظم اور سنی مسلم سیاست دان سعدالحریری نے کہا ہے کہ اس سے ایک ایسے ملک پر پابندیاں عاید ہونے کا خطرہ ہے جس کی معیشت گذشتہ قریباً دو سال سے پہلےہی سنگین بحران سے دوچارہے۔

قبل ازیں حزب اللہ نے کہا تھا کہ ایران سے تیل بردار جہازجمعرات کو لبنان کے لیے روانہ ہوگا۔اس نے امریکی اور اسرائیلی دشمنوں کو اس کھیپ کو روکنے کے کسی بھی اقدام پرخبردارکیا تھا۔

حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے کہا کہ لبنان کے عوام کی مدد کے لیے ایران سے مزید کھیپیں بھیجی جائیں گی۔انھوں نے خبردارکیا تھا کہ ’’ہم کسی کوچیلنج نہیں کررہے اور نہ کسی کے ساتھ کسی مسئلے میں الجھنا چاہتے ہیں بلکہ ہم اپنے لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ ایران سے آنے والا تیل بردارجہاز لبنان میں کہاں لنگرانداز ہوگا۔ایک امکان یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کو ہمسایہ ملک شام کی کسی بندرگاہ پر لنگرانداز کیا جائے گا۔برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے اپریل میں خبردی تھی کہ حزب اللہ لبنان میں جاری ایندھن کے بحران پرقابوپانے کےلیے شام میں تیل ذخیرہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

کارنیگی مشرق اوسط مرکز کے ایک فیلو مہند ہیج علی کا کہنا ہےکہ تیل کی کھیپ کو روکنے کےکسی بھی اقدام سے حزب اللہ کےاس بیانیے کو تقویت ملےگی کہ لبنان کو امریکی محاصرے کا نشانہ بنایاجارہا ہے جبکہ ایران تو اس کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ اب گیند امریکی کورٹ میں ہے۔