.

سعودی عرب: اسکولوں میں حاضری کے لیے کرونا ویکسین لازمی قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے کہا ہے کہ اسکولوں میں واپسی کے لیے 12 سے زاید عمر کے طلباء اور طالبات کے لیے اینٹی کورونا وائرس ویکسین کی دو مکمل خوراکیں لگوانا بنیادی شرط قرار دی گئی ہے۔

سعودی وزیر تعلیم حمد آل الشیخ نے یونیورسٹی کی تعلیم ، تکنیکی تربیت ، انٹرمیڈیٹ اور سیکنڈری مراحل میں حاضری کی واپسی کا اعلان کیا تاہم انہوں نے کہا کہ ان تمام مراحل میں واپس آنے والے طلبا کے لیے کرونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانا لازمی ہے۔ تاہم ابتدائی جماعتوں کے طلبا کو’مدرستی‘ پلیٹ فارم کے ذریعے آن لائن پڑاھا جائے گا اور اس کے لیے سہ پہر 3:30 سے شام 7 بجے تک کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔

سعودی وزیرتعلیم حمدآل الشیخ
سعودی وزیرتعلیم حمدآل الشیخ

وزیر تعلیم نے اس بات پر زور دیا کہ نجی اور غیر ملکی تعلیمی اسکولوں کو پرائمری اورچھوٹی کلاسوں کے طلبہ کی حاضری سے مستثنیٰ نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ سرکاری اور نجی تعلیم میں فرق کرنا ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے جمعرات کو سرکاری کمیونیکیشن پریس کانفرنس کے دوران وضاحت کی کہ جن طلباء کو کرونا ویکسین کی دو خوراکیں نہیں ملی ہیں وہ تعلیمی ادارے میں حاضر نہیں ہوسکیں گے تاکہ دیگر طلبا اور ان کے خاندانوں کو محفوظ رکھا جاسکے۔انہوں نے بتایا کہ اسکولوں کا عملہ ’میرا اسکول‘ پلیٹ فارم پر طلباء کے لیے روزانہ کے اسباق اپ لوڈ کرےگا تاکہ طلباء ویکسین لگوانے تک پڑھائے جانےوالے اسباق سے محروم نہ رہیں۔ نیز پلیٹ فارم پر متبادل تعلیمی مواد دستیاب رہے۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کے ابتدائی مرحلے میں خواتین اساتذہ کی شرح 40 فیصد تک بڑھا دی گئی ہے۔

کم عمربچوں کی کلاسز

انہوں نے انکشاف کیا کہ اگلے تعلیمی سال کے لیے1497 کلاسز کنڈرگارٹن میں شامل کی گئی ہیں۔ ان میں 34،500 بچے اور بچیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 7923 پرائمری اسکولوں کی کلاسز شروع کی گئی ہیں۔

عن قریب دو لاکھ5 ہزار سے زائد طلباء وطالبات اسکولوں میں آئیں گے جن کی تعلیم ’پری اسکول‘ میں خواتین اساتذہ کے سپرد کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران 331،000 سے زائد مرد و خواتین اساتذہ کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور تدریسی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ اساتذہ اور فیکلٹی ممبران جنہوں نے وزات تعلیم اور وزارت برائے افرادی قوت کے میکا نزم کے تحت ویکسین کی دو خوراکیں نہیں لگوائیں ان سے نمٹا جائے گا۔

دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت

سعودی عرب کے وزیر تعلیم حمد آل الشیخ نے مزید کہا کہ تعلیمی پلیٹ فارم تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے دور دراز مقامات پر انٹرنیٹ نیٹ ورک کی فراہمی میں وزارت مواصلات کے ساتھ شراکت جاری ہے۔ طلباء کے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے کے لیے عین سیٹلائٹ چینلز کے متبادل فراہم کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 232 عمارتوں میں ایک لاکھ 19 ہزار طلباء کی گنجائش موجود ہے۔ 21،000 اسکولوں میں 12 لاکھ طلباء کو نقل وحمل کی سہولت کے لیے 30،000 بسیں اور سکول گاڑیاں فراہم کی گئیں ہیں۔ گذشتہ دو سال کے دوران 71 ملین سے زائد کتابیں سکولوں میں تقسیم کی گئیں۔

والدین کے نام پیغام

وزیر تعلیم نے والدین اور ہر سرپرست حضرات کے نام اپنے پیغام میں ان ے کہا ہے ’بچے آپ کی سب سے قیمتی چیز ہیں۔ یہی بچے ملک کا بھی قیمتی اثاثہ ہے۔ ہمین اور آپ سب کو ان کی تعلیم اور ان کی صحت کے تحفظ کے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا، انہیں کرونا ویکسین لگوانا اور بروقت ویکسین لگوا کرانہیں اسکولوں میں بھیجنا ہے۔

کرونا ویکسین کی ایک خوراک حاصل کرنے والے طلباء کا تنابس 93 فی صد تک پہنچ گیا ہے جب کہ دو خوراکیں لینے والے طلبا کی شرح37 فی صد ہے۔ یونیورسٹی کے طلباء جنہوں نے ایک خوراک لگوائی ہے ان کی شرح 85 فی صد اور دو خوراکیں لینے والوں کی تعداد 59 فی صد ہے۔