.

لبنانی حکومت اورمرکزی بنک ایندھن پرجزوی سبسڈی پرمتفق،مگرقیمتوں میں اضافہ متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں حکومت اور مرکزی بنک کے ایندھن کے بحران سے نکلنے کے لیے نئے اقدامات سے قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ لبنانی حکومت نے ایک ڈالرکے مقابلے میں پاؤنڈ کی سابق شرح تبادلہ 3900 کو بڑھاکر 8000 پاؤنڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لبنان کے مرکزی بنک کے گورنر ریاض سلامہ نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ بنک کا صرافہ پلیٹ فارم مارکیٹ ریٹ پر ایندھن کی درآمد کے لیے ڈالرفراہم کرے گا۔جمعہ کو ایک ڈالر 16,500 پاؤنڈ میں بک رہا تھا اور یہ قریبا 19,000 کے متوازی مارکیٹ ریٹ سے کچھ کم ہے۔انھوں نے کہا کہ صرافہ مارکیٹ کی شرح اور ڈالر کی شرح تبادلہ 8000 پاؤنڈ کے درمیان فرق سے حکومت کو نقصان ہوگا۔

ریاض سلامہ، صدر میشیل عون اور دوسرے سرکاری عہدے داروں کے درمیان ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مرکزی بنک ایندھن پر زرتلافی کی رقم کو پورا کرنے کے لیے ستمبر کے آخر تک زیادہ سے زیادہ ساڑھے بائیس کروڑڈالر تک کا عارضی اکاؤنٹ کھولے گا۔

اس میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد گیسولین، ایندھن کے طور پر استعمال ہونے والے تیل اور کھانا پکانے کی گیس کے لیے ’فوری اور استثنائی سبسڈی‘ کا احاطہ کرنا ہے۔

تاہم لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ ڈالر کی شرح تبادلہ کو 3900 کی سابقہ سطح سے بڑھا کر 8000 پاؤنڈ کرنے کے فیصلے کے بعد ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے۔

لبنان اس وقت شدید معاشی بحران کی لپیٹ میں ہے۔اس سے 1975-1990ء کی خانہ جنگی کے بعد پہلی مرتبہ اس کے استحکام کے لیے خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔گذشتہ ہفتوں میں ایندھن کی قلت کی وجہ سے گاڑیوں اور موٹرسائیکل سواروں کو گیسولین کے حصول کے لیے گھنٹوں قطار میں کھڑے رہنا پڑا ہے۔

بعض شہروں میں لڑائی جھگڑے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں اور مظاہرین نے سڑکیں بند کرکے احتجاج کیا ہے۔ عالمی بنک کے مطابق اس وقت لبنان کو صدی کے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے۔