.

سعودی عرب میں ’دھند کا سمندر‘ کہلانے والے’کوہ سودہ‘ کے دلکش مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جنوب میں واقع مشہور پہاڑ "السودہ" کی ڈھلوانوں پر دھند کی لہریں کچھ ایسے پھیلتی ہیں جیسے وہ انہیں اپنی آغوش میں لے رہی ہوں۔ دھند کی لہروں سے ڈھانپے جانےکے بعد پہاڑ کی خوبصورتی اور دلفریبی میں اور بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ دھند سعودی عرب کے بلند ترین علاقے کی خوبصورت فطرت کو مجسم شکل میں پیش کرتی ہے۔ سودہ پہاڑ کی خوبصورتی کی ایک وجہ یہاں پر موجود عرعر کے گھنے جنگلات اور درخت بھی ہیں جو اسے سدا بہار سرسبزو شاداب رکھتے ہیں۔

فوٹوگرافر رائد العوفی نے السودہ کے ’السحاب پارک‘ میں سمندری دھند کی تصویر کشی کے تجربے کو زندہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ یہ پارک دلکش قدرتی ماحول کے درمیان ابھا شہر کے سب سے نمایاں خوبصورت سیاحتی پارکوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ شاندار فطرت ، پرسکون ماحول اور راحت وآرام اس پارک کی خصوصیات ہیں۔

سرد موسم بہار

عسیر کا ماحول ویسے بھی سرد بہار کی طرح ہے جو باقی علاقوں میں موسم گرما کی چمک اور گرمی سے زیادہ متاثر نہیں ہوتا بلکہ گرمیوں میں بھی اعتدال پر رہتا ہے۔ قدرتی رنگوں میں بارش یہاں کی آبشاروں کے ساتھ مل کر مناظر فطرت کو فن پاروں کی شکل میں پیش کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاح اور دیگر شہری چھٹیاں گذارنے اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔ اس علاقے کا درجہ حرارت گرمیوں میں انتہائی مناسب ہوتا ہے اور تقریبا روزانہ کی بنیاد پر یہاں پر بارش برستی رہتی ہے۔ سیاح اس موسمی کیفیت سے بھرپور انداز میں لطف اندوزہوتے ہیں۔

العوفی فوٹوگرافر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایاکہ میں نے جنوب کے بہت سے علاقوں کا دورہ کیا جن میں جیزان، فيفا، جبل صماد، جبال الحشر، كحلا، جبال القہر جیسے مقامات شامل ہیں۔ السودہ پہاڑ سمندری دھند کی وجہ سے بہت مشہور ہے اور مقامی سطح پر لوگ اسے ’دھند کا سمندر‘ بھی کہتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ السودہ عسیر خطے کا ایک سیاحتی مرکز ہے جو سطح سمندر سے 3015 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس کے پہاڑ گھنے عرعر درختوں سے ڈھکے ہوئے ہیں جوخوبصورت قدرتی جنگلات کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔

گاؤں میں گرمیوں میں اوسط درجہ حرارت 15 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ نہیں ہوتا جبکہ سردیوں میں درجہ حرارت اردگرد کے علاقوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے۔ اس علاقے میں تفریح کے لیے بنائی گئی کیبل کار ابھا شہر سے تقریبا 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔