.

عراق:کربلا میں میونسپل افسرکے قاتل کو پھانسی کی سزاکا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ایک عدالت نے جنوبی شہرکربلا میں ایک سرکاری افسرکوگولی مارکردن دہاڑے قتل کرنے والے مجرم کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

عراق کی سپریم کورٹ نے اتوار کوایک بیان میں کہا ہے کہ تمام کارروائی مکمل ہونے اور مجرم کے اعتراف کے بعد مقدمہ کو کربلا کی فوجداری عدالت میں پیش کیا گیا ہے اورعدالت نے جرم کا جائزہ لینے کے بعد پھانسی کی سزاسنائی ہے۔

مجرم حسین عبدالعامرنے کربلا میں میونسپل ڈائریکٹرعبیر سلیم کو10 اگست کوگولی ماردی تھی۔وہ اس وقت پیدل غیرمنظورشدہ تعمیرات کے سروے کی نگرانی کررہے تھے۔ملزم کوموقع پرہی گرفتار کرلیا گیا تھا۔

عراق کے فوجداری نظام انصاف کے تحت اب مجرم کے وکیل 30 دن میں عدالت کے اس فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ سزائے موت کے حکم کی صدر برہم صالح سے بھی توثیق ضروری ہے اور پھر مجرم کو تختہ دارپر لٹکایا جائے گا۔

عراقی وزیراعظم مصطفٰی الکاظمی نے سرکاری افسر کے قتل کے بعد کربلا کادورہ کیا تھااور کہا تھاکہ ’’قاتل اور مجرم سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔‘‘

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ عراق سزائے موت پر عمل درآمد کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک ہے۔تنظیم کا کہنا ہے کہ2020ء میں 45 افراد کو پھانسی دی گئی تھی۔ان میں بہت سے افراد کو داعش سے تعلق کے الزام میں قصور وار قرار دے کر تختہ دار پر لٹکایا گیا تھا۔