.

عالمی مرکز برائے انسداد انتہا پسندی کے سیکرٹری جنرل کا دورہ عراق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی مرکز برائے انسداد انتہا پسندی (اعتدال) کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر منصور الشمری سرکاری دورے پر عراق پہنچے ہیں۔

قومی سلامتی کے مشیر قاسم العراجی نے عراق میں سعودی سفیر عبدالعزیز الشمری کی موجودگی میں سیکرٹری جنرل اور اس کے ہمراہ آنے والے وفد کا استقبال کیا۔ ڈاکٹر منصور عراق میں مشترکہ طور پر کی جانے والی ملاقاتوں کے علاوہ انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے مباحثوں میں شرکت کریں گے۔

اس موقع پر قومی سلامتی کے مشیر قاسم العراجی نے عراق سعودی تعلقات میں کو ہر شعبے میں فروغ دینے اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے اعتدال کی کوششوں کو سراہا ہے۔

ملاقات کے دوران سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ عراق کو دہشت گردی سے نمٹنے کے میدان میں بھرپور تجربہ ہے۔ اس تجربے کو انتہا پسند نظریات سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اعتدال کے پاس موجود سہولیات اور قابلیت عراق کی خدمت کے لیے پیش ہیں اور انتہا پسند ودہشت گرد تنظیموں کے افکار اور نظریات کا سامنا کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی اعتدال کے پلیٹ فارم سے حمایت کی جاتی ہے۔

عراق میں اعتدال کی ٹیم
عراق میں اعتدال کی ٹیم

اس موقع پر منصور الشمری نے عراق میں نیشنل سکیورٹی سروس کے سربراہ عبدالغنی الاسدی کے ساتھ مشترکہ مفادات کے امور پر تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ معاونت اور مہارت کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔

عبدالغنی الاسدی نے انتہا پسند نظریات کا مقابلہ کرنے میں اعتدال کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مشترکہ کارروائی اور مہارت کے تبادلے کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مشترکہ کاوش کے نظریے کا مقصد ہے کہ ہمارے معاشرے کے افکار اور آنے والی نسلوں کو حفاظت کی جا سکے

الشمری نے کہا کہ انتہا پسند نظریہ ہمارا مشترکہ دشمن ہے جس کا ہم مل کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہم موجودہ اور آنے والی نسلوں کو اس کے خطرات سے بچانے کے لیے تعاون بڑھانے پر خوش ہیں۔

بعد ازاں منصور الشمری نے النھرین سنٹر فار سٹریٹجک اسٹڈیز کا بھی دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے مرکز کے ڈائریکٹر جنرل علی ناصر اور دیگر عہدیداروں سے ملاقات کی۔ اعتدال کے وفد کو مرکز کے محکموں کی کوششوں سے آگاہ کیا گیا اور دونوں ممالک میں تعاون کو مزید بڑھانے پر مشترکہ بات چیت کی گئی۔