.

پرانا جنوبی ظہران سعودی عرب میں روایتی تمدن اور طرز تعمیرکا شاہکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے عسیر میں بہت سے سیاحتی مقامات اور پرکشش جگہیں ایسی ہیں جو سال بھرسیاحوں اور زائرین کی توجہ کا مرکز رہتی ہیں۔ یہ علاقہ اپنی پرانی فطرت،قدرتی ماحول اور گرمیوں میں متعدل موسم کی وجہ سے سیاحوں کی جنت کا درجہ رکھتا ہے۔

جنوبی ظہران گورنری عسیر خطے کے جنوب میں اپنے تاریخی مقامات ، محلات اور آثار قدیمہ اورتاریخی قلعوں کی بہ دولت ممتاز مقام رکھتی ہے۔ ان میں سر فہرست پرانی مارکیٹ میں "جنوبی ظہران ٹاؤن" شامل ہے۔ یہ ٹاؤن اپنے کئی تاریخی مقامات کی وجہ سے مشہور ہے۔ ان مقامات میں تاریخی مسجد، ٹاؤن کا مرکزی چوک جسے شمال اور جنوب کی سمت سے آنےوالے قافلوں کے لیے ایک سنگم کا درجہ حاصل رہا ہے۔ ہفتہ وار "جمعرات بازار" اہم مقامات ہیں۔ یہ بازارخنجر، تلواروں،،ملبوسات، چمڑے کے سامان اور پتھر کے برتوں کی وجہ سے مشہور ہے۔

مارکیٹ کی ترقی

جنوبی الظہران گورنری کی بلدیہ نے مارکیٹ سے ملحقہ درجنوں دکانیں تعمیر کرکے مارکیٹ کی ترقی کے لیے کام کیا مگر اس کی تعمیر وترقی کے باوجود یہاں کی تاریخی ، ثقافتی اور سیاحتی جگہوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچایا گیا بلکہ انہیں مزید محفوظ بنایا گیا ہے۔ اس کے روایتی فن تعمیر اور جگہ کی قدرتی خصوصیت کو برقرار رکھا گیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی "SPA" کے مطابق جنوبی الظہران کی بلدیہ کی نجمن کے سربراہ محمد یحییٰ الوادعی نے وضاحت کی کہ قصبے کے طرز تعمیر کی زمین کو تین بنیادی متوازی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔یہ طرز تعمیر صدئوں سے جنوبی الظہران کی تمدنی ترقی کا آئینہ دار ہے۔ ان میں سے پہلا زرعی علاقہ ہے جو شہر کے جنوب میں وادی کے کنارے پر واقع ہے۔اس کے فوری بعد متوازی اور نیم ہموار سطح مرتفع کا علاقہ ہے۔ یہ رہائشی علاقہ ہے جو زرعی اور شمال میں بازار کے تجارتی علاقے کے درمیان ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ الظہران ٹاؤن کو ماضی بعید میں اس انداز میں تقسیم کرنے اور اس کی منصوبہ بندی کا مقصد نقل و حرکت میں آسانی پیدا کرنا اور اس کے مختلف حصوں کے درمیان فوری رابطے کے ساتھ ساتھ سماجی ، سیکیورٹی اور سروسز کی خصوصیات کو برقرار رکھنا ہے جن سے ماضی میں اس کے باشندے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ خاص طور پراس کی پرانی منصوبہ بندی ایک مخصوص اور منفرد تعمیراتی اسلوب سے ہم آہنگ ہے جس میں قصبے کی وسیع اراضی پر دفاعی قلعوں کی تعمیر کو زیادہ اہمیت دی گئی۔

ظهران الجنوب  2
ظهران الجنوب 2

فطرت سے ہم آہنگی

الوادعی کا کہنا ہے کہ جنوبی الظہران میں بسنے والے لوگ یہاں کے بزرگوں کی بصیرت اور نوجوانوں کےفطرکومسخر کرنے کے طریقے پر چلتے ہیں تاکہ اس کی زمین کو محفوظ رکھنے کے ساتھ اس کےوسائل سے فائدہ اٹھایا جائے جوصدیوں سے الظہران کے سلامتی اور وجود کویقینی بنانے کا ذریعہ رہے ہیں۔

وادی العرین کے ساتھ واقع کھیتوں کی منصوبہ بندی اور اہتمام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ وادی میں گرنے والے میدانوں کے پانی سےفائدہ اٹھایا جاسکے۔یہ پانی وادی میں موجود کھیتوں کی عقبی سمت میں بنی نالیوں کے ذریعے وادی کے ایک سے دوسرے کونے تک جاتا ہے۔ ان نالیوں سے کاشت کاراپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں اور نالیوں میں پانی کو موڑنے کے لیے بنائے گئے سوراخوں کا استعمال کرتے ہیں۔ اس پانی کے ساتھ آنے والی قدرتی کھاد سےبھی کسانوں کی فصلوں فائدہ پہنچتا ہے۔ جب کھیت اچھی طرح سیراب ہوجاتے ہیں تو پانی کی نالیوں میں بنے سوراخ بند کردیے جاتےہیں تاکہ کھیتوں میں ضرورت سے زیادہ پانی داخل ہونے سے فصلوں کو نقصان نہ پہنچے۔

الوادعی نےکہا کہ پرانے زمانے میں قصبے کے لوگوں نے منتخب مقامات پر مضبوط پتھریلے ڈیم تعمیر کیے۔ تاکہ سیلابی پانی کو زیادہ سے زیادہ ممکنہ مدت تک محفوظ رکھا جاسکے۔ اس کے علاوہ وادی کے لوگوں نے کھیتوں کو سیراب کرنے اور مال مویشی کو پانی پلانے کے جگہ جگہ کنوئیں کھود رکھے۔

ہفتہ وار مارکیٹ چوک

الوادعی نے مزید کہا کہ جنوبی الظہران قصبے کے شمالی جانب ہفتہ وار مارکیٹ چوک ہے۔ یہ چوک اطراف علاقوں کی سطح پر شہری خصوصیات میں سے ایک ہے۔ اس سے قبل بدھ کے روز تاجروں کی یہاں آمد ورفت دیکھی جو اگلے دن مارکیٹ میں سامان کی خریدو فروخت کی تیاری کرتے ہیں۔ یہاں پر سب سے اہم اشیاء میں اناج ، کشمش ، کافی کی کھجوریں ، لکڑی ، بھیڑ بکریاں ، گھی ، شہد ، سبزیاں ، پھل اور دستکاری شامل ہیں۔

الوادعی نے گفتگو میں کہا کہ الظہران قصبے کی خصوصیات میں اس کے محلات ، مکانات ،قلعوں کا شہری اندازہے۔ یہ مکانات اور قلعےشمال میں مارکیٹ چوک، جنوب مغرب میں فارمز کی طرف اور زرعی تجارتی مقام کے وسط میں واقع ہیں۔ ان گھروں کے دروازے مارکیٹ کی طرف کھلتے ہیں۔ماضی میں ان دروازوں کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر رات کو بند اور دن کو کھلا رکھا جاتا تھا۔ قصبے کے مغرب میں ایک تاریخی مسجد بھی ہے موجود ہے۔