.

سعودی عرب کے 10 عالمی ٹیک کمپنیوں کے ساتھ ٹریننگ اکیڈمیوں کے قیام کے معاہدے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے "طویق انیشی ایٹیوز" پروگرام نے 10 بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ریاض میں اکیڈمیاں کھولنے اور تربیتی پروگرام کے انعقاد کے معاہدے کیے ہیں۔

یہ معاہدے الریاض میں منعقدہ Lanuch ایونٹ کے دوران طے پائے۔ لانچ اون ٹریاض میں منعقد ہونے والا سب سے بڑا تکنیکی ایونٹ ہے جس میں دنیا کی 10 بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے شرکت کی ہے۔ اس موقعے پرسعودی عرب میں سائبر سیکیورٹی فیڈریشن کے ’سی ای او‘ متعب القنی نے انکشاف کیا کہ طویق اکیڈمی نےالریاض میں اپنی بین الاقوامی اکیڈمیوں کو کھولنے کے لیے 10 بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

جن عالمی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے گیے ہیں ان میں اس وقت سرفہرست معروف ٹیکنالوجی کمپنیاں شامل تھیں۔ ان میں گوگل ، امازون ، آئی بی ایم ، سسکو ، اوریکل ، مائیکروسافٹ ، ٹرینڈ مائیکرو ، اور آفینسیوسیکیورٹی شامل ہیں۔ یہ کمپنیاں مملکت کے ساتھ "اپنے تربیتی پروگرام شروع کرنے" ،نوجوانوں کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو فروغ دینے والے مراکز کے ساتھ تعاون کریں اورمملکت میں کیڈرز اور ٹیکنیکل انٹرپرینیورشپ میں جدت کے پروگرامات شروع کریں گی۔

لانچ ایونٹ کے منتظمین نے تین اہم اقدامات (طویق ، ہمہ ، قمۃ) کا اعلان کیا۔ جن کا مقصد پروگرامنگ کے شعبوں میں نوجوان مردوخواتین کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو فروغ دینا، ، تکنیکی کمپنیوں اور فنڈنگ ایجنسیوں کے درمیان اعتماد بڑھانا اور مرکزی اجتماعات اور پلیٹ فارمز کے ذریعے جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

کل بدھ کو ایک تقریب کے دوران سعودی وزیر مواصلات اورانفارمیشن ٹیکنالوجی انجینیر عبداللہ بن عامر السواحہ نےانکشاف کیا کہ مملکت میں مقامی سطح پر پہلی سمارٹ چپس کی تیاری کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ ان چپس کی تیاری میں لیبر اور ماہرین سب مقامی ہیں۔ یہ چپس عسکری، تجارتی اور سول مقاصد کے لیے استعمال کی جاسکیں گی۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ان سمارٹ چپس کی پروسیسنگ پاور چاند پر انسانی سفر کے دوران استعمال ہونے والی چپس سے 60 ہزار گنا زیادہ ہے۔ سمارٹ فونزتیار کرنے والی بڑی بڑی کمپنیاں جیسے ایپل ، گوگل ، مائیکروسافٹ ، ایمازون ، آئی بی ایم ، سکسو ، اوریکل اور علی بابا یہ چپس استعمال کرتی ہیں۔ دنیا کی 10 بڑی کمپنیاں جو اس ٹیکنالوجی کا 60 فی صد استعمال کرتی ہیں۔

"طویق انیشی ایٹیوز" سعودی فیڈریشن برائے سائبر سیکیورٹی ، پروگرامنگ اور ڈرونز اپنے 2017 میں قیام کے بعد سے طے شدہ بنیادی ہدف کے حصول پر توجہ مرکوز کرے گا۔ اس کا ہدف یہ ہے کہ 2030 تک ہر 100 سعودیوں میں سے ایک کو پروگرامر بنانا ہے۔

جہاں تک "ہمۃ انیشی ایٹو" کی بات ہے تو یہ ٹیکنالوجی کی صنعت میں مملکت کی عالمی قیادت کے حصول کے مقصد پر توجہ مرکوز کرے گی جس کے لیے 2.5 ارب ریال کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

قمہ انیشیٹیوز کی بنیادی توجہ تکنیکی اور ڈیجیٹل پہلوؤں کو سپورٹ کرنے والے مرکزی کلسٹرز اور پلیٹ فارمز کے ذریعے جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی پر ہوگی۔