.

کائنات کے وجود پرغورکرنے والی سعودی دوشیزہ ’کلرفشن‘ آرٹسٹ کیسے بنی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک فنکارانہ احساس کے ساتھ جذبات سے بھرپور سعودی عرب کی فائن آرٹسٹ فاطمہ الحکمی نے اپنے خیالات کے تصور کو ’کلر فشن‘ کےذریعےپیش کرکے ڈرائنگ کا انوکھا طریقہ اپنا کر آرٹ کوایک نیا رنگ دیا ہے۔ اس طرح اس نے اپنے برش کے ذریعے رنگوں کی تشکیل کا منفرد انداز میں اظہارکیا ہے۔

سیرامکس اور دھات میں مہارت رکھنے والے آرٹ ایجوکیشن کی گریجویٹ الحکمی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا میں نے 5 سال ’کلر فشن‘ کے آرٹ کے لیےوقف کیے۔ اس میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ میں اسی عنوان کے تحت ایک ایسی نمائش کا انعقاد کرسکوں جس میں میں اپنے اندر تخلیق کائنات کے آغاز سے کائنات اور اس کی تکوین وتشکیل کے بارے اپنے شوق کا اظہار کرسکوں۔ جس کائنات کا آغاز لا مکان سے ہوا۔ وہاں سے وہ رنگوں کے ذریعے پھیلی اور عناصر کائنات ظہور پذیر ہوئے۔

الحکمی نے بتایا کہ اس نے مملکت کی سطح پر مختلف گروپ نمائشوں میں شرکت کی جن میں مسک آرٹ 2019 ، کینیڈا میں سعودی ثقافتی دن اور وزارت ثقافت کی نمائشوں میں شرکت شامل ہے۔

کہانی کا آغاز

فاطمہ الحکمی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے بچپن میں پینٹنگ نہیں کی تھی۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ کوئی مجھے زبردستی کہےکہ میں نے کیا پینٹ کرنا ہے۔ مجھے ریت اور مٹی سے کھیلنا اچھا لگتا تھا۔ میں خالق کی عظمت پر غور کرتی رہتی تھی۔

جب آرٹ ایجوکیشن ٹیچر نے مجھے میری پسندیدہ چیزوں کو پینٹ کرنے کا موقع دیا اور تخلیقی طور پر پہلی پینٹنگ کے ذریعے اپنے جذبات کو پیش کیا جو باقی پینٹنگز کے لیے چنگاری ثابت ہوئی۔

میں نے خیال پر توجہ دی اور اپنے ہاتھوں کو اپنے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کے لیے استعمال کرتے ہوئے اپنی نمائش "دی فشن آف کلرز" پیش کی۔

اس نے کہا کہ میں نے نمائش کلرفشن کے تخیلات پر تیار کی گئی 30 پیٹنگز پیش کیں۔ آنے والی نسلوں کے لیے میرا یہی پیغام اور میری دعوت ہے کہ گہرائی کےساتھ غور کریں اور نئی نسلوں کے لیے سوچیں۔ یہی ہمارے سچے دین نے ہمیں حکم دیا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ یہی میرا وطن عزیز سعودی عرب کے لیے ایک آرٹ پیغام ہو۔