.

ایران ہرگز جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا: جو بائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقات میں کہا ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں۔ تہران کسی صورت میں جوہری طاقت نہیں بنا سکتا۔

جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں اپنی پہلی ملاقات میں امریکی صدر جو بائیڈن اور اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے ایران کے حوالے سے مشترکہ میکانزم اختیار کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی صدر کابل میں ایک مہلک خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں افراتفری کے خاتمے اور افغانستان سےامریکی انخلا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

’داعش‘ کے حملے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کی امریکی صدر سے جمعرات کو طے شدہ ملاقات جُمعے تک ملتوی کردی گئی تھی۔ جمعرات کو کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والی اس دہشت گردانہ کارروائی میں 13 امریکی فوجی اور 72 افغان شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

جو بائیڈن اور بینیٹ نے امریکا اور اسرائیل تعلقات کے پیرا میٹرز کو نئی شکل دینے اور ایرانی معاملے پر اختلافات کو کم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہ نماؤں نے تہران کے جوہری پروگرام سے نمٹنے کے طریقوں پر پائے جانے والے اختلافات دور کرنے کے لیے رابطوں کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا۔

یہ ملاقات دونوں رہ نماؤں کے رواں سال عہدے سنبھالنے کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی میٹنگ ہے۔ یہ ملاقات جمعرات کو ہونا تھی مگر کابل کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے کے بعد اسے جمعہ تک موخر کر دیا گیا تھا۔

بائیڈن نے بینیٹ کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا افغانستان کا مشن خطرناک ہے اور اب امریکیوں کو کافی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے مگر ہم اپنا مشن مکمل کریں گے۔

طالبان کی نئی حکومت سے بچنے کے لیے بے چین افغان باشندوں کو نکالنے میں مدد کرنے والی امریکی افواج کو جمعہ کے روز مزید حملوں کے لیے الرٹ کر دیا گیا تھا۔

نامہ نگاروں کو مختصر بیانات میں دونوں رہ نماؤں نے ایرانی جوہری سرگرمیوں کا حوالہ دیا۔ ایران کا معاملہ جوبائیڈن انتظامیہ اور اسرائیل کے مابین ایک انتہائی کانٹے دار مسئلہ ہے۔ بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے بینیٹ کے ساتھ ملاقات میں ان پر واضح کیا ہے کی ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے سفارتکاری کو اولین ترجیح دی اور ہم دیکھیں گے کہ یہ کہاں لے جاتا ہے۔ تاہم اگر سفارت کاری ناکام ہو گئی تو ہمارے پاس ایران کے خلاف اور بھی آپشن موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے ان آپشنز کی مزید تفصیل بیان نہیں کی۔

قبل ازیں امریکی میڈیا میں آنے والی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ توقع ہے کہ بینیٹ امریکی صدر پر زور دیں گے کہ وہ ایران کے ساتھ زیادہ سخت رویہ اپنائے اور مذاکرات کو معطل کرے جن کا مقصد جوہری معاہدے کو بحال کرنا ہے۔ یہ معاہدہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ختم کیا گیا تھا۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ جو بائیڈن بینیٹ کو بتائیں گے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام میں توسیع کے بارے میں اسرائیل کی تشویش میں اس کے ساتھ ہیں مگر وہ سفارتی انداز اور مذاکرات کے ذریعے اس کا حل تلاش کر رہے ہیں۔

بینیٹ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ بائیڈن سے اتفاق کرتے ہیں کہ اگر ایران کے ساتھ امریکی مذاکرات ناکام ہو گئے تو دوسرے آپشن موجود ہیں لیکن انہوں نے ان اختیارات کی نوعیت کا بھی ذکر نہیں کیا۔

بینیٹ نے اپنے آپ کو نیتن یاہو کے جارحانہ انداز سے دور کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے بجائے بند دروازوں کے پیچھے اختل کم کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ نیتن یاہو کی طرح بینیٹ بھی ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کےلیے تمام ممکنہ ذرائع ار طریقے استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔