.

بغداد:مصری صدرالسیسی اورامیرِقطرشیخ تمیم کے درمیان مفاہمت کے بعد پہلی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرکے صدر عبدالفتاح السیسی نے ہفتے کے روزعراق کے دارالحکومت بغداد میں امیرِقطرشیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلووں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

اس سال جنوری میں قطر اور چار عرب ممالک کے درمیان سفارتی تنازع کے خاتمے کے بعد دونوں لیڈروں کی یہ پہلی ملاقات کی ہے۔

مصری ایوان صدر کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’صدر السیسی نے امیرِقطر سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان تعمیری اورنتیجہ خیزتعاون بڑھانے کی خواہش کااظہار کیا ہے۔انھوں نے باہمی احترام، مشترکہ مفاد اور مخلصانہ ارادوں کے فریم ورک میں عرب یک جہتی کی ضرورت پر زوردیا ہے اور اس ضمن میں مصرکی پالیسی کو ایک اصول اور ایک تزویراتی نقطہ نظر کے طور پر پیش کیا ہے۔‘‘

ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ملاقات میں مصر اور قطرکے درمیان مشاورت جاری رکھنے اور تعلقات کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کاوشوں سے اتفاق کیا۔انھوں نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے میکانزم کی بحالی کے ضمن میں دوطرفہ اقدامات سے بھی اتفاق کیا ہے۔

مصراور قطر نے دوطرفہ تعلقات کو بہتربنانے کی علامت کے طور پرگذشتہ دو ماہ کے دوران میں ایک دوسرے کے دارالحکومت میں اپنے اپنے سفیرمقررکیے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے جون 2017 ءمیں قطر کے ساتھ سفارتی، تجارتی اور مواصلاتی تعلقات منقطع کرلیےتھے-ان چاروں ممالک نے پر قطر پردہشت گردی کی حمایت کا الزام عایدکیا تھا لیکن قطر نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

ان ممالک نے جنوری میں سعودی عرب کے تاریخی شہر العُلاء میں منعقدہ خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس کے موقع پراس سفارتی تنازع کو باضابطہ طور پر ختم کرنے اور قطرسے تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا تھا۔ان ممالک نے ایک اعلامیے پر دست خط کیے تھے۔اس کے تحت قطر پر عاید مختلف قدغنیں ختم کردی گئی تھی۔