.

سعودی عرب میں کل سے تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں کرونا وبا کی وجہ سے عاید کی گئی پابندیوں کے بعد کل اتوار انتیس اگست سے مملکت میں اکیس ہزار تعلیمی ادارے اور اسکول کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تعلیمی ادارے کھولنے کے بعد لاکھوں طلبا وطالبات اپنے تعلیمی عمل کا آغاز کریں گے۔

ملک بھرکے تمام اسکولوں میں کرونا ’ایس اوپیز‘اور صحت کے لازمی پروٹوکول پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کرایا جائے گا۔ اسکولوں کے طلبا میں 71 ملین درسی کتابیں تقسیم کی گئی ہیں۔

اسکولوں میں آمد سے قبل طلبا طالبات کو’مدرستی‘ اور ’روضتی‘ ایپلیکیشنز کے ذریعے رجسٹریشن کرائی گئی ہے۔ تمام اسکولوں کی تمام کلاسز کے لیے آن لائن تدریس کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ 12 لاکھ طلبا اور طالبات کو اسکولوں میں لانے کے لیے 30 ہزار بسیں فراہم کی گئی ہیں اور اکیس ہزار اسکولوں کو طلبا کے استقبال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

مڈل اور انٹرمیڈیٹ کے مراحل کے طلبا وطالبات کو سرکاری، نجی اور غیرملکی اسکولوں میں آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان اسکولوں کو کرونا وبا کی وجہ سے بند کیا گیا تھا۔ 12 سال سے زاید عمر کے بچوں کو کرونا ویکسین کی دو خوراکیں لگوانے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسکولوں میں کرونا وبا کے خطرات کے پیش نظر وبا پر ایس او پیز پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کرایا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے تعلیمی عمل کی بحالی سے قبل ملک بھر کے تمام اسکولوں کی مرمت، صفائی اور ان میں سینی ٹائزیشن کا خصوصی اہتمام کیا۔ اسکولوں کی مرمت اور وبا کے بعد کے حالات اور ضروریات کے مطابق ان کی تیاری پر ایک ارب ریال کی رقم صرف کی گئی ہے۔

وزارت تعلیم کاکہنا ہے کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ طلبا کی ضروریات کے ساتھ ساتھ تدریسی عملے کی تمام ضروریات کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ گذشتہ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران 3 لاکھ 31 ہزار مردو خواتین اساتذہ کو خصوصی تربیت دی گئی۔

تعلیمی اداروں میں 34 نئے نصاب شامل کیے گئے ہیں جب کہ 89 نصابی مضامین میں ترمیم اور تبدیلی کی گئی۔