.

عراق کی سرزمین علاقائی اورعالمی تنازعات میں استعمال نہیں ہوگی:مصطفیٰ الکاظمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی سرزمین علاقائی اور عالمی تنازعات میں استعمال نہیں ہوگی۔یہ بات عراق کے وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی نے بغداد میں ہفتے کے روزعلاقائی تنازعات سے متعلق کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں تقریرکرتے ہوئے کہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہمیں مختلف سطحوں پر بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔اس کانفرنس کو بلانے کا مقصد ڈائیلاگ اور شراکت داری سے متعلق اپنے ویژن کواجاگرکرنا ہے۔ہم عراق کی سرزمین کا بین الاقوامی اورعلاقائی تنازعات میں استعمال مستردکرتے ہیں۔ہم عراق کے کسی فریق کو ڈرانے،دھمکانے کے لیے سپرنگ بورڈ کے طور پر استعمال کو بھی مسترد کرتے ہیں۔‘‘

مصطفیٰ الکاظمی نے کہا کہ ’’عراق کے عوام نے اپنے لیے جمہوریت کے راستہ کاانتخاب کیا ہے۔یہ راستہ تجربات کے عمل سے گزررہا ہے۔اس میں بعض خامیوں کو دور کیا گیا ہے۔اب ماضی کی طرف لوٹنے کا کوئی جوازنہیں رہا ہے،ہمیں غیرجمہوری راستے کی جانب بھی لوٹنا نہیں۔ ہمسایہ اور دوست ممالک کے ساتھ کشیدگی اورفضول جنگوں میں الجھنے کا دور بھی لدچکا۔‘‘

انھوں نے کہا:’’ہم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ اس تاریخی موقع پرہم یہ کہہ سکتے ہیں،خطے کے ممالک اورعوام کے درمیان تقسیم کے برعکس مشترکہ چیزیں زیادہ ہیں۔خیرسگالی کی زبان ،اعتماد کی بحالی ،تعاون کے باب اور شراکت داری ہمارے خطے میں امن وسلامتی کا بنیادی لیور ہیں اور یہی بین الاقوامی امن وسلامتی کی بنیاد ہیں۔‘‘

عراق کی میزبانی میں اس کانفرنس میں مشرقِ اوسط کے ممالک متعدد سربراہان مملکت وحکومت اور فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں شریک تھے۔اس کانفرنس کا مقصد عراق کے پڑوسی ممالک کی اپنے تنازعات کو طے کرنے کے لیے آپس میں بات چیت حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

تاہم اس کانفرنس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس میں کسی نمایاں پیش رفت کی توقع نہیں۔عراقی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے کہا کہ ’’اگر تنازعات کا شکارممالک کومذاکرات کی میزپر لابٹھایا جاتا ہے تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔‘‘

کانفرنس میں مصری صدرعبدالفتاح السیسی ، اردن کے شاہ عبداللہ دوم ،امیرقطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور فرانسیسی صدر شرکت کررہے ہیں۔کویت اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں کے سربراہان اور ترک وزیرخارجہ مولود شاوش اوغلو شریک ہیں۔ کانفرنس میں سعودی عرب کی نمایندگی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کررہے ہیں۔