.

افغانستان میں جو کچھ ہوا،وہ عراق میں نہیں ہوگا:فوجی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج کے ترجمان بریگیڈیئرجنرل یحییٰ رسول نے کہا ہے کہ ’’افغانستان اس وقت جس بحران سے گزررہا ہے، اس کا عراق میں اعادہ نہیں ہوگا۔‘‘

بریگیڈیئرجنرل یحییٰ رسول نے کردخبررساں ایجنسی رودا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے:’’افغانستان میں جوکچھ رونما ہوا، وہ عراق میں نہیں ہوگا۔ان دونوں ملکوں کا کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔آج ہمارےپاس مسلح افواج ہیں، شہری دفاع کا نظام ہے اور مسلح افواج اور عراقی عوام متحد ہیں۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ’’ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے اور ہم عراق اور اس کے عوام کا تحفظ کرسکتے ہیں۔مسلح افواج کی موجودگی کی وجہ سے عراق اور افغانستان کا باہم موازنہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ہم نے اس کرۂ ارض پر سب سے طاقتور دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف جنگ لڑی ہے اور اس کے قبضے سے عراق کا قریباً 40 فی صد رقبہ آزاد کرایا ہے۔اب جو کچھ باقی بچا ہے اورہورہا ہے، وہ یہ کہ یہاں اور وہاں واقع داعش کے خفیہ سیلوں کے استیصال کا عمل جاری ہے۔‘‘

افغانستان میں طالبان نے امریکی فوج کے مکمل انخلا سے قبل دوہفتے سے بھی کم عرصے میں کابل سمیت ملک کے بیشتردوسرے علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے لیکن اس وقت وہاں ایک طرح کی ابتری کا دوردورہ ہے اور طالبان کے خوف سے ہزاروں افغان شہری راہ فراراختیارکرکے بیرون ملک جا رہے ہیں یا پڑوسی ملک پاکستان کا رُخ کررہے ہیں۔

کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے باہرگذشتہ جمعرات کو خودکش بم حملے کے نتیجے میں تیرہ امریکی فوجیوں اور ایک سو سے زیادہ افغان ہلاک ہوگئے تھے۔اس وقت ہزاروں افغان بیرون ملک جانے کے لیے پروازوں کے انتظار میں ائیرپورٹ کے اردگرد جمع تھے۔

سخت گیرجنگجو گروپ داعش نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔اس کے ردعمل میں امریکی فوج نے ہفتے کے روزمشرقی صوبہ ننگرہار میں ایک فضائی حملہ کیا تھا اور اس میں داعش کے دو سرکردہ جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔

امریکی فوج نے اتوار کوبھی کابل کے بین الاقوامی اڈے کے نزدیک ایک گاڑی پر ڈرون حملہ کیا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس گاڑی میں داعش کے مبیّنہ خودکش بمبار سوار تھے اور وہ کابل کے ہوائی اڈے کو ایک مرتبہ پھر خودکش بم حملےمیں نشانہ بنانا چاہتے تھے۔

افغانستان سے امریکی فوج کا حتمی انخلا جاری ہے اور اب چند سو ہی امریکی فوجی یا اہلکار جنگ زدہ ملک میں موجود رہ گئے ہیں۔ان کا بھی31 اگست تک انخلا مکمل ہوجائے گا۔عراق میں اس وقت قریباً 6ہزار امریکی فوجی موجود ہیں اور انھیں بھی افغانستان کی طرح واپس بلایا جارہا ہے۔

اس ضمن میں عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی اور امریکی صدر جوبائیڈن کے درمیان جولائی میں ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے تحت سال 2021ء کے اختتام تک عراق میں امریکا کے جنگی مشن کا خاتمہ ہوجائے گا اور تمام امریکی فوجی وطن واپس چلے جائیں گے۔