.

ایران میں کرونا کی وبا میں شدت پر حکومت قصور وار قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حساسیت اور قوت مدافعت تنطیم کے چیئرمین محمد وجکانی نے کہا ہے کہ مُلک میں کرونا وبا کی موجودہ شدت مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری اور وبا کے حوالے سے غلط اندازوں کا نتیجہ ہے۔ حکومت کے کھوکھلے وعدوں، مفادات کے ٹکراؤ اور سائنسی ہدایات سے صرف نظرکرنے سے ملک میں وبا کی شدت میں مزید اضافہ ہوا۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کو لکھے گئے ایک مکتوب میں انہوں نے کہا کہ کرونا ویکسین کے ذریعے اجتماعی قوت مدافعت کا پتا اس وقت چلتا ہے جب کل آبادی کے 81 فی صد کو کم سے کم وقت میں ویکسین لگا دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ کرونا ویکسینیشن کی مدت میں توسیع اور ملک میں وبا کی نئی اقسام کے ظہور پذیر ہونے سےقوت مدافعت پیدا نہیں ہوسکتی۔

خیال رہے کہ ایرانی سپریم لیڈرعلی خامنہ ای نے8 جنوری 2021ء کو بیرون ملک بالخصوص امریکا اور برطانیہ سے کرونا ویکسین کی خریداری ممنوع قرار دی تھی۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے مقرب ذرائع ابلاغ نے حالیہ عرصے کے دوران غیر ملکی ویکسینوں کے حوالے سے طرح طرح کی افواہیں پھیلانا شروع کردی تھیں تاکہ لوگوں کو غیرملکی ویکسینوں سے بد ظن کیا جاسکے۔

ایران میں سول سوسائٹی کی 10 شخصیات نے ہفتے کے روز بین الاقوامی اداروں کو مکتوب ارسال کیا تھا جس میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایرانی رجیم کی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک میں کرونا کے متاثرین اور اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

درایں اثنا ایران میں فوڈ اینڈ ڈرگ آرگنائزیشین کے ترجمان کیانوش جہان پور نے بتایا کی مقامی سطح پر ایران نے کرونا ویکسین کی 75 لاکھ خوراکیں تیار کی ہیں۔ ویکسین کو’برکت‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ان میں سے 36 لاکھ 50 ہزار خوراکیں وزارت صحت کو دی گئی ہیں۔