.

’جبل شدا‘ پرسرخ رنگ شفق کے دلفریب مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک مقامی فوٹو گرافر نے سطح سمندر سے 1700 میٹر کی بلندی پر واقع ’جبل شدا‘ پر غروب آفتاب کے وقت شفق کے سرخ رنگوں کے مناظر کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کیا ہے۔

مقامی فوٹو گرافرعلی الشدوی نے کیمرے کی مدد سے غروب آفتاب کے وقت کے وقت شفق کے مناظر کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ یہ پہاڑ سعودی عرب کے جنوب مغرب میں الباحہ کے علاقے کی المخواۃ گورنری میں واقع ہے۔

ان تصاویر پرتبصرہ کرتے ہوئے علی الشدوی نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ المخواۃ کے مناظران ایام میں بہت خوبصوت اور دلفریب ہوتے ہیں۔ وہ ان مناظر کو غروب آفتاب کے مناظر کے ساتھ ملا کر کیمرے میں محفوظ کرنا چاہتا تھا جس کے لیے وہ مغرب سے کچھ دیر قبل جبل شذا کی طرف روانہ ہوگیا۔

اس نے کہا کہ مجھے طلوع اورغروب آفتاب کے مناظر بہت پسند ہیں۔ فوٹو گرافروں کے لیے یہ اوقات سنہری گھڑیاں ہوتی ہیں۔ طلوع اورغروب آفتاب کے وقت افراد اور قدرتی مناظرکے جادووئی مناظر سامنے آتے ہیں۔

اس نے کہا کہ سنہری گھڑی یا تصویر کے لیے جادووئی گھڑی دیکھنا ہو تو غروب آفتاب سے کچھ دیر قبل اور بعد میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس وقت کا دورانیہ مختصر ہوتا ہے۔ اس وقت سورج کا رنگ سرخ اور زمین پرمنظر دلفریب ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ ’شفق‘ کی اصطلاح غروب سورج غروب ہونے کے وقت کے منظر کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

شفق غائب ہونے کا وقت مسلمانوں کے لیے نماز عشا کے آغاز کا وقت ہوتا ہے۔

شفق کے بارے میں اہل علم میں صدیوں سے مختلف آرا پائی جاتی رہی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب سورج کی شعائیں زمین کے غلاف پر پڑتی ہیں اور برف کے ٹکڑوں کو توڑ کرآگے بڑھتی ہیں تو اس سے انتہائی خوبصورت اور دلفریب رنگ پھلتے ہیں۔