.

سعودی عرب: مشرقی صوبے کی سمت حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارت دفاع کے اعلان کے مطابق آج اتوار کو علی الصبح حوثی ملیشیا نے مملکت کے تین صوبوں الشرقیہ، جازان اور نجران کی سمت 3 بیلسٹک میزائل داغے گئے۔ علاوہ ازیں ایران نواز ملیشیا نے 3 دھماکا خیز ڈرون طیارے بھی بھیجے۔

سعودی وزارت دفاع کے سرکاری ترجمان بریگیڈیر جنرل ترکی المالکی کے مطابق سعودی فضائی دفاعی نظام نے تینوں بیلسٹک میزائل اور تینوں ڈرون طیاروں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ تاہم اس دوران میں ہفتے کی شب الشرقیہ صوبے کے شہر دمّام میں تباہ شدہ بیلسٹک میزائل کے ٹکڑے لگنے سے دو بچے زخمی ہو گئے جب کہ 14 گھروں کو معمولی نقصان پہنچا۔

المالکی نے واضح کیا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کے ذریعے سامنے آنے والی یہ غنڈہ گردی اور غیر ذمے دارانہ رویہ ،،، اخلاقی اقدار اور انسانیت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

میزائل حملوں کی مذمت

دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف بن احمد العثیمین نے سعودی عرب کے صوبے الشرقیہ کی سمت حوثیوں کے بیلسٹک میزائل کی شدید مذمت کی ہے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے مملکت میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے حوالے سے حوثیوں کی جانب سے جاری کوششوں کو مذموم قرار دیا۔ العثیمین کے مطابق اسلامی تعاون تنظیم سعودی عرب کی جانب سے اپنی سرزمین اور امن وسلامتی کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی تائید کرتی ہے۔

او آئی سی کے سکریٹری جنرل نے زور دیا کہ تنظیم حوثی ملیشیا کی جانب سے مرتکب دہشت گرد کارروائیوں اور ان کے لیے مال اور ہتھیار کی سپورٹ فراہم کرنے والوں کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔ العثیمین کے مطابق یہ افعال "جنگی جرائم" شمار ہوتے ہیں۔