.
یمن اور حوثی

یمن میں حوثیوں کے خطرناک ترین رہ نما کی گرفتاری کی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایک فوجی ترجمان نے ایرانی افکار کا پرچار کرنے والے ایک اہم حوثی رہ نما حسن علی یحیی العماد کی گرفتاری کے حوالے سے تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔

ہفتے کے روز العربیہ نیوز چینل کو دیے گئے ایک بیان میں مذکورہ ترجمان نے بتایا کہ العماد کی گرفتاری ایک کامیاب انٹیلی جنس کارروائی کے ذریعے عمل میں آئی۔ یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد نے مآرب میں ایک بڑا فضائی آپریشن کیا جس کے دوران میں 170 حملے کیے گئے۔ مارب میں آپریشن میں مارے جانے والے حوثی کمانڈر ملیشیا کے سرغنے کے بہت قریبی ساتھی ہیں۔

یمنی سیکورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سرحدی سیکورٹی فورسز نے گذشتہ ہفتے المہرہ صوبے کی زمینی سرحدی گزر گاہ پر حوثی ملیشیا کے اہم رہ نما حسن علی یحیی العماد کو گرفتار کر لیا۔ ایرانی افکار و نظریات کے نمایاں ترجمان العماد کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ بھیس بدل کر ایران سے واپس لوٹ رہا تھا۔

العماد کو نظریاتی طور پر حوثی ملیشیا کے خطرناک ترین رہ نماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اثنا عشری عقائد کے حامل رہ نما نے ایک ایرانی خاتون سے شادی کر رکھی ہے اور اس کا تہران میں ایک گھر بھی ہے۔

اس کا باپ یحیی العماد ایران میں پرورش پانے والا ایک اہم مذہبی رہ نما تھا۔ وہ حوثی تحریک کا ایک اہم بانی رکن اور یمن میں ایرانی منصوبے کا خاص ترجمان شمار کیا جاتا ہے۔

حسن علی اور اس کے بھائیوں نے اپنے والد کے ساتھ 1990ء کی دہائی میں ایران منتقل ہو کر قُم شہر میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ حسن اور اس کے بھائیوں نے ایرانی اسکولوں اور مذہبی مراکز میں تعلیم حاصل کی۔ اس طرح وہ ایرانی مسلک کا پرچار کرنے والے مبلغ بن گئے۔

العماد مع بشار الأسد
العماد مع بشار الأسد

العماد حوثیوں کے زیر انتظام تنظیموں اور خیراتی انجمنوں کا ایک مجموعہ بھی چلاتا تھا۔ یہ مجموعہ یمن میں ایرانی ایجنڈے پر عمل درامد کے واسطے کام کرتا ہے۔

حسن 2011ء سے 2015ء تک صنعاء اور تہران کے درمیان منتقل ہوتا رہا۔ بعد ازاں 2016ء میں وہ اقوام متحدہ کے ایک طیارے کے ذریعے تہران کوچ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔