.

متحدہ عرب امارت سے چوتھا طیارہ امدادی سامان لے کر کابل پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ابوظبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے نائب سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید کی ہدایت پر افغان عوام کے لیے قائم فضائی پل کے تحت 48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں امارات کا چوتھا امدادی طیارہ افغان دارالحکومت کابل پہنچ گیا ۔

امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’وام‘ کے مطابق طبی اور غذائی امداد افغانستان میں انسانی ہمدردی کے تحت جاری کاوشوں میں معاونت کے لیے بھیجی گئی ہے۔ امارات کی طرف سے قائم فضائی پل چوبیس گھنٹے کام کر رہا ہے جس سے ہزاروں افغان گھرانے مستفید ہورہے ہیں۔

یہ اقدام امارات کے اس دیرینہ انسانی ہمدردی جذبے اور عزم کا حصہ ہے جس کے تحت وہ ضرورت مند لوگوں کو بحرانوں کے دوران مدد فراہم کرتا رہا ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں حالیہ صورتحال پیدا ہونے کے بعد وہاں کابل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر انسانی ہمدردی کے تحت امداد بھیجنے والے اولین ممالک میں متحدہ عرب امارات شامل ہے۔

قطر نے بھی افغان دارالحکومت کابل میں امدادی سامان بھیجنے کے لیے یومیہ کی بنیاد پر خصوصی فضائی سروس شروع کی ہے۔

قطر کے خبر رساں ادارے ’قنا‘ کے مطابق افغانستان میں متعین قطری سفیر سعید بن مبارک الخیارین کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں دوحہ اور کابل کے درمیان امدادی سامان کی فراہمی کے لیے فضائی پل قائم کیا جائے گا۔

قطر نے سنیچر کو ایک طیارہ کابل بھیجا تھا جس پر17 ٹن کے لگ بھگ ادویہ، طبی سازوسامان اور کھانے پینے کی اشیا تھیں۔