.

کیا غزہ اور مصر کے درمیان سرنگیں پائی جاتی ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کی حکومت کے نگرانی میں کام کرنے والی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ مصر کے ساتھ سرحد پر پھیلی ہوئی ایک سرنگ کے اندر سے تین نوجوانوں کی لاشیں نکالی ہیں۔ وزارت داخلہ کے ترجمان ایاد البزم کے مطابق امدادی ٹیموں نے مذکورہ افراد کی لاشوں کو ہسپتال منتقل کر دیا جب کہ متعلقہ ادارے واقعے کے حوالے سے ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔

فلسطینی نوجوانوں کی موت کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی اور اس حوالے سے کسی سرکاری ادارے کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا سرحد پر سرنگیں پائی جاتی ہیں؟ یہ افراد سرنگ کے اختتام تک کس طرح پہنچے جو مصری جانب کے متوازی ہے؟ بالخصوص جب کہ یہ علاقہ سیکورٹی زون ہے جس کے قریب آنا ممنوع ہے اور یہاں پولیس فورس بھی تعینات رہتی ہے۔

اس خبر کے پھیل جانے کے فوری بعد فسلطین میں "القوى الوطنية والإسلامية" (قومی اور اسلامی قوتوں کے اتحاد) نے اپنے ایک بیان میں ایک سرنگ میں زہریلی گیس چھوڑے جانے اور سرنگ میں تین افراد کی موت واقع ہونے کی مذمت کی۔ تاہم اتحاد کی اعلی کمیٹی کے رکن سعد ابو دقہ نے بتایا کہ یہ بیان غلط تھا لہذا معلومات کی تصدیق کے بعد بیان واپس لے لیا گیا۔ درحقیقت مذکورہ تینوں فلسطینیوں کی موت سرنگ کے منہدم ہونے کے سبب واقع ہوئی اور یہ سرنگ مصر تک نہیں پہنچتی ہے۔

جغرافیائی لحاظ سے غزہ کی پٹی جنوبی سمت سے مصر کے ساتھ سرحد کے ذریعے جڑی ہوئی ہے۔ یہ سرحد 12 کلو میٹر سے زیادہ طویل ہے۔ اس سرحد پر رفح کی زمینی گزر گاہ بھی واقع ہے۔ یہ افراد کے سفر کے لیے مخصوص ہے۔ اسی طرح صلاح الدین کمرشل گیٹ بھی ہے۔ البتہ بقیہ سرحد دونوں جانب سے الگ تھلگ علاقہ ہے جس کا پہرہ غزہ میں وزارت داخلہ کے زیر انتظام سیکورٹی فورسز دیتی ہیں۔

واضح رہے کہ ماضی میں سال 2013ء سے قبل اس سرحدی علاقے میں (جو غزہ کی پٹی کو مصر کے ساتھ جوڑتا ہے) زیر زمین سرنگیں پھیلی ہوئی تھیں۔ یہ تجارتی تبادلے کے عمل کے لیے مخصوص تھیں۔ ان سرنگوں کو فلسطینیوں نے کھودا تھا تا کہ 2006ء سے جاری غزہ کی پٹی کے اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کی کوشش کی جا سکے۔

تاہم مصر کی مسلح افواج نے 2013ء سے ان سرنگوں کو تباہ کرنے کی پالیسی اختیار کر لی۔ ان سرنگوں کے ذریعے تجارتی تبادلے کے عمل کو "اسمگلنگ" قرار دیا گیا۔ اس وقت مصری فوج کے عسکری ترجمان کرنل احمد محمد علی نے سرنگوں کے 550 کے قریب دہانوں کا انکشاف کیا تھا۔ فوج نے پہلے سال تقریبا 225 دہانوں کو تباہ کیا۔ اس مقصد کے لیے پانی کا استعمال کیا گیا جس سے سرنگیں ڈوب گئیں اور اس کی ریت بیٹھ گئی۔ یہ آپریشن 2015ء تک جاری رہا۔

بعد ازاں مصر نے فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ تعلقات استوار کیے جنہیں قاہرہ نے "اچھے روابط" قرار دیا۔ فریقین کے درمیان اس بات پر اتفاق ہو گیا کہ سرحدی علاقے کو محفوظ تر بنایا جائے۔ اس علاقے کی لمبائی 12 کلو میٹر اور گہرائی 1500 میٹر تھی۔

سیکورٹی امور کے محقق محمد ابو هربيد کا کہنا ہے کہ مصر کا غزہ میں حکومتی اداروں کے ساتھ ایک معاہدہ ہے جس کے تحت ہر اس سرگرمی کو روکا جاتا ہے جو جانبین کے بیچ سیکورٹی کی صورت حال پر اثر انداز ہو۔ رفح اور مصر کے بیچ واقع علاقے (بفر زون) میں اب بھی سرنگیں موجود ہیں تاہم ماضی کے مقابلے میں ان کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ اس کا سبب سرحد پر کیے گئے سخت اقدامات ہیں۔ علاوہ ازیں رفح کی سرحدی گزر گاہ پر سہولتیں بھی پیش کی گئیں جن سے غزہ کی پٹی کی آبادی کے مصائب میں کمی واقع ہوئی۔

بفر زون قائم کیے جانے کے باوجود مصری فوج نے علاقے میں نئی سرنگوں کے انکشاف کا اعلان کیا۔ اس حوالے سے تازہ ترین انکشاف رواں سال اپریل میں کیا گیا۔ مذکورہ سرنگوں کو تباہ کر دیا گیا۔ اسی طرح غزہ میں فلسطینی وزارت داخلہ نے مسلح افراد کی جانب سے دراندازی کی کوششوں اور انہیں ناکام بنائے جانے کا انکشاف کیا۔ اس سلسلے میں آخری کارروائی 2019ء میں سامنے آئی۔ ان امور نے مصری حکام کو مجبور کر دیا کہ وہ زیر زمین ایک فولادی دیوار تعمیر کریں۔ اس کی لمبائی 10 کلو میٹر اور گہرائی 20 میٹر تک ہو۔ یہ دیوار اس حد تک مضبوط بنائی گئی کہ ڈائنامائٹ کے خلاف مزاحمت کر سکے۔

غزہ پٹی کے گرد اسرائیلی محاصرے میں نرمی کی کوشش کے لیے مصری حکام نے غزہ کے ساتھ سرحد پر صلاح الدین کمرشل گیٹ وے کو کھول دیا۔ ساتھ ہی سامان کی غزہ کی پٹی منتقلی کی اجازت بھی دے دی۔

رفح کی گزر گاہ کے میڈیا ترجمان کے مطابق صلاح الدین گیٹ وے ہفتے میں تین روز کھلتا ہے۔ اس کے کام کرنے کے حوالے سے کوئی قید یا رکاوٹ نہیں پائی جاتی۔ اس کا مطلب ہے کہ سرنگیں بنانے کا کوئی جواز باقی نہیں۔