.

ایران پر حملے کے فیصلے کی صورت میں متعدد منصوبے تیار ہیں: اسرائيل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف افیف کوخافی کا کہنا ہے کہ ایران اور مشرق وسطی میں اس کے ونگز کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ ایران پر حملے کا فیصلہ کرنے کی صورت میں مختلف نوعیت کے متعدد عملی منصوبے تیار ہیں۔

ایک اسرائیلی ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں کوخافی نے واضح کیا کہ "ہم مشرق وسطیٰ میں جو کارروائیاں کر رہے ہیں ان کے کئی مقاصد ہیں تاہم مرکزی ہدف خطے میں ایرانی وجود کو بالخصوص شام اور دیگر جگہوں پر کم کرنا ہے۔ اسرائیلی کارروائیوں میں حماس، حزب اللہ اور ایرانیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے"۔

کوخافی کے مطابق اب تک حاصل ہونے والی کامیابیاں اچھی ہیں مگر یہ مثالی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سال چیلنجز سے بھرپور ہو گا اس کی وجہ اسرائیلی فوج کا بڑے علاقے میں سرگرم ہونا ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے گذشتہ برسوں کے دوران میں شام میں ایرانی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر سیکڑوں فضائی حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی حکومت بارہا یہ باور کرا چکی ہے کہ وہ شام میں ایرانی وجود میں ایسی توسیع کی ہرگز اجازت نہیں دے گی جو اسرائیل کے امن کے لیے خطرہ ثابت ہو۔

علاوہ ازیں سمندری علاقوں میں کئی بحری جہازوں پر حملے بھی دیکھے گئے۔ تہران اور تل ابیب ان حملوں کی ذمے داری ایک دوسرے پر عائد کرتے رہے ہیں۔