.

دمام میں حوثی ملیشیا کے بیلسٹک میزائل حملے سے متاثرہ خاندان کا احوال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے علاقے دمام پر ایک بیلسٹک مزائل حملہ کیا۔ سعودی محکمہ دفاع نے حوثیوں کا یہ حملہ پسپا کردیا اور میزائل کو فضا ہی میں تباہ کردیا گیا۔ تاہم جوابی کارروائی کے دوران تباہ ہونے والے میزائل کے کچھ ٹکڑے مقامی آبادی پرآ گرے جس کے نتیجے میں متعدد بچے زخمی ہوگئے تھے۔

متاثرین میں دمام کے محمد الحایطی کا خاندان بھی شامل ہے۔ الحایطی خاندان کے لیے یہ رات انتہائی تکلیف دہ تھی۔ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ اتوار کی شام تھی اور وہ کھانے سےفارغ ہونے کے بعد سونے کی تیاری کررہے تھے۔ اس دوران ان کے گھر پر میزائل کے ٹکڑے آ گرے۔

مشرقی سعودی عرب کے علاقے دمام میں شاہ فہد کالونی میں میزائل کے ٹکڑے گرے جس کے نتیجے میں محمد الحایطی کی اہلیہ اور دو بچے زخمی ہوگئے۔ شیلنگ سے اس کے مکان کے دروازے، کھڑکیوں اور فرنیچرکو بھی شدید نقصان پہنچا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الحایطی نے کہا کہ میں اس وقت گھر پر نہیں تھا۔ رات نو بج کرپچیس منٹ پر میری اہلیہ کا فون آیا۔ اس نے بتایا کہ گھر پر کچھ ٹکڑے گرے ہیں اور ہم نے زور دار دھماکوں کی آوازیں بھی سنی ہیں۔ میں اس وقت گھر سے پانچ کلو میٹر دورتھا۔ وہ چِلائی اور کہا کہ ہمارے گھر میں آگ لگ گئی ہےاور ہم زخمی ہیں۔ میں جلدی جلدی گھر لوٹا۔ جب میں گھر پہنچا تو ایمبولینس اور سیکیورٹی ریسکیو ٹیمیں موقعے پر پہنچ چکی تھیں۔

خوف وہراس کی حالت

ایک سوال کے جواب میں محمد الحایطی نے کہا کہ تباہ ہونے والے بیلسٹک میزائل کے ٹکڑے گرنے اور دھماکے سے تمام کھڑکیاں ٹوٹ چکی تھیں اور بجلی کا نظام تباہ ہوگیا تھا۔

اپنے خاندان کے بارے میں بات کرتے ہوئے الحایطی نے کہا کہ جب میں گھر پہنچا تمام بچے خوف کی کیفیت میں تھے۔ میرے گیارہ سالہ بچے ترکی کے پاؤں میں چوٹ آئی تھی۔ سات سالہ شجون بھی زخمی تھا۔ دونوں کو اسپتالوں میں علاج کے بعد واپس گھر لایا گیا ہے۔

الحایطی کا کہنا تھا کہ دھماکے سے میری اہلیہ کے کان کے پردے پھٹ گئے اور کچھ دیر کے لیے تو اس کے بائیں کان کی سماعت کی صلاحیت بھی ختم ہوگئی تھی۔

مکان کا 60 فی صد تباہ

محمد الحایطی نے بتایا کہ تباہ میزائل کے شیل لگنے سے مکان کا 60 فی صد حصہ بری طرح متاثر ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ان کے مکان کی مرمت شروع کردی ہے۔

اس کا کہنا تھا کہ سات سالہ بچی دھماکے سے شدید صدمے کا شکار ہے اور وہ گھر سے باہر نکلنے سے ڈرتی ہے۔ وہ کالونی سے باہر جانے اورگھر کے قریب آنے سے ڈرتی ہے۔