.

سعودی ڈاکٹروں نے عطائی کے شکار مریض کی زندگی کیسے بچائی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں بلجرشی کے مقام پرشہزادہ مشاری بن سعود اسپتال کی میڈیکل ٹیم ایک انوکھی بیماری میں مبتلا شخص کی زندگی بچانے میں کامیاب ہوگئی۔ یہ مریض اسپتال لائے جانے سے قبل ایک معالج کے ہتھے چڑھ کرپہلےبھی بدتر حالت کو پہنچ گیا تھا۔قریب تھا کہ اس کی زندگی ختم ہوجاتی۔

یہ اپنی نوعیت کا دنیا کا واحد کیس ہے۔ مریض پسلیوں کے فریکچر ، سینے میں خون پھیلنےاور کے پٹھوں کے گینگرین میں مبتلا تھا اور وہ ایک دیسی معالج کے ہتھے چڑھ کر علاج کے بجائے بیماری کو اور بھی پیچیدہ بنا چکا تھا۔ یہاں تک کہ موت اس کے سر پر منڈلانے لگی تھی۔

الباحہ محکمہ صحت نے ایک بیان میں بتایا کہ مریض کے دیسی علاج کے نتیجے میں متعدد پیچیدگیاں پیدا ہوگئی تھیں جس کی وجہ اس کی تین ہفتوں تک اسپتال میں تاخیر تھی۔

میڈیکل ٹیم کے سربراہ تھوراسک اوراوسوفیجل سرجری کے کنسلٹنٹ حسن الزندی نے کہا کہ سرجن ڈاکٹروں پر مشتمل ایک مربوط میڈیکل ٹیم انتہائی نگہداشت ،اینستھیزیا اور دیگر تکنیکی خصوصیات کی نگرانی میں سرجیکل کا عمل کامیابی کے ساتھ مکمل کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مریض کے جسم میں خون پھیلنے بچایا گیا اور جسم کے اعضاء اپنی معمول کی حالت میں واپس آگئے اور اب وہ بحالی کے مرحلے میں ہے۔

دریں اثنا الباحہ ہیلتھ کے سرکاری ترجمان ماجد الشطی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ حکومت نے شہریوں کو بار بار خبردار کیا ہے کہ وہ علاج کے لیے دیسی ڈاکٹروں کے پاس جانے کے بجائے مستند معالجین سے رجوع کریں۔ نیشنل میڈیکل سینٹرکی طرف سے منظور شدہ معالجین اوراسپتالوں سے علاج کرائیں اور غیرمجاز نام نہاد عطائیوں سے بچیں۔

خلاف مسلسل انتباہ جنہیں وزارت صحت کے نیشنل سینٹر فار کمپلینٹری اینڈ الٹرنیٹیو میڈیسن کے پاس لائسنس نہیں ہے۔ ، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ جو بھی اس کی خلاف ورزی کرے گا اسے سیکیورٹی حکام کے حوالے کیا جائے گا اور پھر اسے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کیا جائے گا۔