.

سعودی عرب کا سلامتی کونسل میں حوثیوں کے حملوں کے خلاف احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے مملکت پرایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے حملوں کا معاملہ ایک بار پھرعالمی سلامتی کونسل میں اٹھایا ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقل مندوب نے جمعرات کو اعلان کیا کہ مملکت نے سلامتی کونسل کو مشرقی علاقے جازان اور نجران پر حوثی گروپ کے حالیہ حملے کے حوالے سے ایک مکتوب بھیجا ہے۔ اس مکتوب میں واضح کیا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کے حملے علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن کے حصول کی کوششوں میں رکاوٹ ہیں۔

مندوب نے اپنے مکتوب میں کہا کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں سے اقوام متحدہ کی یمن میں ایک جامع سیاسی حل تک پہنچنے کی کوششوں کو خطرہ ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثیوں کے جارحانہ اقدامات کی شدید مذمت کرے اور حوثی گروپ کو ذمہ دار ٹھہرائے۔

سلامتی کونسل میں یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب آج جمعرات کو سعودی محکمہ دفاع نے حوثیوں کی طرف سے خمیس مشیط کی طرف چھوڑا تیسرا ڈرون تباہ کر دیا۔ یمن میں آئینی حکومت کے دفاع میں لڑنے والے عرب اتحاد نے جمعرات کو امریکا کے دو ڈرون طیارے تباہ کردیے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی طرف سے شہری آبادی پر کیے جانے والے حملوں کی روک تھام کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہےہیں۔ عرب اتحادی فوج انتہائی احتیاط کے ساتھ شہریوں کے کم سے کم جانی نقصان کو یقینی بنانے کی کوشش کے تحت حوثی ملیشیا کے خلاف کارروائیاں کررہی ہے۔

گذشتہ اتوار کوسعودی عرب کی وزارت دفاع نے مملکت پر حوثیوں کے تین بیلسٹک میزائل حملے ناکام بنا دیے تھے۔ ان حملوں میں دو بچے زخمی ہوئے جبکہ 14 گھروں کو نقصان پہنچا تھا۔

حوثی ملیشیا کی طرف سے مملکت کی شہری آبادی اور حساس اقتصادی اہمیت کے حامل مقامات اور تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔ عرب ممالک اور عالمی برادری کی شدید مذمت کے باوجود حوثی ملیشیا سعودی عرب کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔