.

عراقی وزیراعظم الکاظمی ایرانی صدررئیسی سے ملاقات کرنے والے پہلےغیرملکی لیڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے ایران کے صدر ابراہیم رئیسی سے تہران میں اتوار کوملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔وہ سخت گیرابراہیم رئیسی کے اگست میں منصب صدارت سنبھالنے کے بعد ان سے ملاقات کرنے والے پہلے غیرملکی رہ نما ہیں۔

ابراہیم رئیسی نے عراقی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد میں ایک مشترکہ نیوزکانفرنس میں کہا کہ ’’مجھے امید ہے، ہم ایران اورعراق کے درمیان اچھے تعلقات میں توسیع کا مشاہدہ کریں گے۔‘‘ان کے بہ قول دونوں ممالک کے دشمن ایسا نہیں چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ عراق اپنے پڑوسی ملک ایران اور اس کے مخالف سعودی عرب سمیت دوسرے خلیجی ممالک کے درمیان ثالثی کی کوشش کررہا ہے۔عراق ایک طرف ایران اوردوسری طرف امریکا، اسرائیل اور خلیجی عرب ریاستوں کے درمیان مخاصمت کےکھیل اور پراکسی جنگ کا میدان بن چکا ہے۔عراق میں امریکی افواج کے خلاف ڈرون اور میزائل حملوں میں ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں پر الزامات عاید کیے جاتے ہیں۔

ابراہیم رئیسی نے کہا کہ عراق نے رواں ماہ کے آخر میں اربعین کے موقع پر شیعہ مقدس مقامات تک ایرانی زائرین کو جانے کی اجازت دینے کے لیے ویزے معاف کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

ایرانی صدر نے وضاحت کیے بغیر کہا کہ دونوں ممالک کے مالی معاملات کے بارے میں فیصلوں پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔

عراق ایران سے درآمدہ گیس اور بجلی پرانحصار کرتا ہے لیکن حال ہی میں واجب الادا رقوم کی عدم وصولی کی وجہ سے ایران نے عراق کوان کی برآمدات میں بے قاعدگی کا سامنا ہے اور ایران نے گیس کی یومیہ مقدار گھٹا دی ہے۔

ایران کی سرکاری گیس کمپنی نے گذشتہ سال کے آخرمیں کہاتھا کہ اس نے عراق کو6 ارب ڈالر سے زیادہ رقم کے بقایا جات کی عدم ادائی پررسد میں کمی کردی ہے۔اس کے بعد بغداد اوردوسرے شہروں میں بجلی کی قلّت کا خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔

عراق کی وزارتِ بجلی نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ وسطی علاقوں کو مہیاکی جانے والی ایرانی گیس کی مقدار کم کردی گئی ہے اور اب یہ یومیہ 30 لاکھ سے کم ہوکر20 لاکھ مکعب میٹررہ گئی ہے جبکہ جنوبی خطے میں یہ ایک کروڑ70لاکھ سے کم ہو کر50 لاکھ مکعب میٹر یومیہ رہ گئی ہے۔