.

دبئی میں کلوننگ کے ذریعے پیدا مثالی اونٹوں کی طلب کیوں بڑھتی جا رہی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقابلوں میں انعامات جیتنے کے قابل مخصوص جانداروں کےحصول کی خواہش کی روشنی اور ان کی مانگ میں اضافے کے بعد دبئی کے ایک سائنسی تحقیقی مرکزکے ماہرین اونٹوں کی کلوننگ کے ایک منصوبے پرچوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد ایسے مثالی جاندار پیدا کرنا ہے جو مختلف مقابلوں کے لیے موزوں قرار دیے جائیں۔ اس سائنسی اور کلوننگ اسکیم کے تحت اونٹوں کے ہونٹ، گردن اوران کی رفتار کو مثالی بنانے پر کام ہو رہا ہے۔

فطری طورپر پیدا ہونے والا ہراونٹ کامل ہونٹوں اور خوبصورت لمبی گردن کی خصوصیت کا حامل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ متمول گاہک کلوننگ کے ذریعے ایسے مثالی اونٹ پیدا کرانا چاہتے ہیں جو اونٹوں کے مقابلوں میں زیادہ سے زیادہ موزوں اور قابل قبول ہوسکیں۔

امارہ دبئی کے تولیدی بائیوٹیکنالوجی مرکزمیں فلک بوس عمارتوں پر سائنسدان اپنی تحقیق کرتے ہیں وہیں ان کے اطراف میں کلوننگ کے ذریعے پیدا کیے جانے والے درجنون اونٹ ان کے آس پاس گھوم رہے ہوتے ہیں۔

غیرمعمولی طلب

ریسرچ سینٹرکے سائنسی ڈائریکٹر نزار وانی نے اے ایف پی کو بتایا کہ اونٹ کلوننگ کی اتنی بڑی مانگ ہے کہ ہماری ٹیم اسے پورا نہیں کرسکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم اب کلونگ کے ذریعے بہت زیادہ اونٹ پیدا کر رہی ہے۔ شاید ہر سال 10 ،20 یا اس سے زائد ایسے اونٹ پیدا کیے جا رہے ہیں۔ اس سال کلوننگ کے ذریعے اب تک 28 اونٹیاں حاملہ ہوئی ہیں۔ پچھلے سال ان کی تعداد 20 تھی۔

شیشے کے ڈبے میں کلونڈ اونٹ کے ساتھ لیبارٹری میں بیٹھے ڈاکٹر وانی کہا کہ مرکز ریسنگ چیمپئن ، دودھ پیدا کرنے والے جانور اور ایسے جاندار پیدا کرنے پر کام کررہے ہیں جواپنی خوبصورتی کی بدولت مقابلوں کے فاتح بن سکیں۔ ایسی خوبصورت اونٹیوں کو ’کوئین‘ کا نام دیاجاتا ہے۔

وانی نے کہا کہ ہم نے کچھ اونٹیوں کو کلون کیا جو روزانہ 35 لیٹر سے زیادہ دودھ پیدا دیتی جب کہ عام حالات میں ایک اونٹنی اوسطا 5 لیٹر سے زیادہ دوھ نہیں دیتی۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے صارفین زیادہ دودھ دینے والی خوبصورت اونٹیوں کے حصول کے بجائے ان کی رفتار،جسمانی ساخت اورخوبصورتی کی وجہ سے بھی کلوننگ کراتے ہیں۔

پورے علاقے میں ریس ٹریک پر اونٹ بھی دکھائے جاتے ہیں اور ماہرین ان کا معائنہ کرتے ہیں۔

کلوننگ سے تیار اونٹوں کی قیمت کیا ہوگی؟

کویت میں اونٹوں کی نیلامی چلانے والے سعود العتیبی نے کہا کہ ان کا کام جانوروں کی "خوبصورتی" سے متعلق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اونٹ کی قیمت اس کی خوبصورتی ، صحت اور نسلی شہرت کے مطابق مقرر کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گاہک نوجوان اونٹ خریدنے سے پہلے اس کی ماں کی خوبصورتی کا تعین کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔

"صحرائی جہاز"

اونٹ "صحرا کے جہاز" کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ماضی میں جزیرہ نما عرب کے ریتلے صحراؤں سے مال تجارت لے جانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ روایتی علامت بن گئے۔

آج ایندھن سے بھرپور فور وہیل ڈرائیو گاڑیوں کو نقل و حمل کے مرکزی موڈ کے طور پر تبدیل کرنے کے بعد اونٹ صرف مقابلوں ، گوشت اور دودھ کی پیداوار میں استعمال ہوتے ہیں۔

مادہ اونٹ ہر دو سال میں صرف ایک بار بچے کو جنم دیتی ہے۔ حمل کی مدت 13 ماہ ہے لیکن دبئی کے یہ طبی تحقیقاتی مرکز ان کی تعداد بڑھانے کے لیے ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔

دبئی دنیا کا پہلا کلونڈ اونٹ

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 12 سال قبل دبئی نےکلوننگ کے ذریعے دنیا کے پہلے اونٹ کی پیدائش کا اعلان کیا تھا۔ پانچ سال تک جاری رہنے والی تحقیق کے بعد 8 اپریل 2009 کوپہلا کلوننگ اونٹ دنیا میں آیا۔ اسے ’انجاز‘ کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد کلوننگ کے ذریعے اونٹوں کی پیداوار عام سی بات ہوگئی ہے۔