.

سبکدوش لبنانی وزیر قلم دان جانشین کو سونپتے وقت پھوٹ پھوٹ کررو پڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں 13 ماہ بعد حکومت سازی لبنانی عوام کے لیے ایک اچھی خبر ہوسکتی ہے مگر سبکدوش ہونے والے عبوری وزرا کے لیے عہدے چھوڑنا اور سابقہ تلخ یادوں کو بھلانا ایک مشکل مرحلہ تھا۔ اس کا اظہار ایک ویڈیو سے کیا جاتا ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سبکدوش ہونےو الے ایک وزیر وزارت کا قلم دان اپنے جانشین کے سپرد کرتے وقت پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔

سابق وزیراقتصادیات راؤل نعمہ کی ایک ویڈیو فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں اُنہیں ایک پریس کانفرنس کے دوران روتے دیکھا جا سکتا ہے۔

نعمہ نئے وزیر اقتصادیات امین سلام کو اپنی ذمہ داریاں سونپنے کے موقع پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ پچھلے سال بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے دھماکوں کی تلخ یادوں کا تذکرہ کرتے ہوئےوہ اپنے جذبات پرقابو نہ رکھ سکے اور رو پڑے، یہاں تک کہ وہ بات بھی مکمل نہ کرسکے۔ اس موقعے پر موجود نئے وزیر امین سلام نے جیب سے ایک ٹشو پپیر نکال کرانہیں آنسو صاف کرنے کو دیا۔

سبکدوش وزیر کے پریس کانفرنس میں رونے کی ویڈیو پر سوشل میڈیا میں ملا جلا رد عمل سامنے آیاہے۔ تاہم بیشتر لوگوں نے اس پر تنقید کی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نعمہ آنسو بہانے میں وزیر اعظم نجیب میقاتی کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔

نئی لبنانی حکومت جو دو دن پہلے تشکیل دی گئی تھی۔ ایک سال تین ماہ کے بعد وجود میں آنے والی اس نئی حکومت کی قیادت نجیب میقاتی کو سونپی گئی ہے۔

اگرچہ اس حکومت کے بیشتر وزراء عوامی اور سرکاری طور پر کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے۔ان کے نام سرکردہ پارٹی رہ نماؤں اور سیاسی رہ نماؤں کی طرف سے آئے تھے۔