.

لبنان میں نئی حکومت آتے ہی وزارت خارجہ کا اسیکینڈل سامنے آگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں تیرہ ماہ کے ٹال مٹول کے بعد حال ہی میں ایک نئی حکومت تشکیل دی گئی ہے مگر ابھی اس نئی حکومت کی کوئی اچھائی یا برائی سامنے نہیں آئی، البتہ وزارت خارجہ کا ایک سکینڈل ضرور سامنے آیا ہے۔

وزارت خارجہ کے اس حیران کن اسکینڈل پرلوگ بھی حیران ہیں۔

سوموار کے روز لبنانی وزارت خارجہ کی راہداریوں میں وزیر دفاع ، نائب وزیر اعظم اورسابق قائم مقام وزیر خارجہ زینہ عکراور وزارت خارجہ کی سیکرٹری جنرل ہانی لشمیطلی کے درمیان ایک بڑا تنازعہ دیکھنے میں آیا۔

عکر کی سکیورٹی اور شمیطلی کے ملازمین کے درمیان لڑائی ہوئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موصوف نے سبکدوش وزیرہ کو ڈاک بھیجنے سے انکار کردیا تھا۔

لبنان میں سوشل میڈیا اورمقامی میڈیا پر پھیلنے والی تصاویرمیں وزارت خارجہ کے ہیڈ کوارٹر کو مادی نقصان اور دروازوں کی توڑپھوڑ کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔

اس اسکینڈل پر تبصرہ کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ محمد الحجار نے ٹویٹ کی کہ وزارت خارجہ میں جو کچھ ہوا وہ لبنان کی شبیہ کی نئی توہین ہے۔ وزارت خارجہ کے جنرل سیکریٹریٹ پر ہونے والےدھاوے، حملے اور توڑپھوڑ خاموش رہنا مُمکن نہیں ہے۔ دفتر میں گھس کر توڑپھوڑ قوانین اور مروجہ سیاسی اور جمہوری اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔