.

کینسر سے لڑتے ہوئے ’پی ایچ ڈی‘ کرنے والے باہمت سعودی نوجوان کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بارہ سال سے کینسر جیسے موذی مرض کے شکارایک باہمت سعودی نوجوان کی کہانی بلاشبہ نامید کے شکار لوگوں کے لیے ایک ہمت افروز داستان ہے۔

ڈاکٹر حمد بن جروان کی متاثر کن کہانی کینسر کے شکار مریضوں کے لیے ایک امید افزا پیغام ہے اور اس نے سرطان سے لڑتے ہوئے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرکے موذی امراض کے شکار افراد میں امید کی روح پھونکی ہے۔

کینسر کی سوہان روح بننے والی تکلیف کے باوجود ڈاکٹر حمد بن جروان نے ایک کتاب تالیف کی جسے ’میں اور کینسرتکلیف اور امید‘ کا عنوان دیا۔ اب وہ ایک اور کتاب پربھی کام کررہے ہیں۔

سماجی کارکن اور انسانی ہمدردی کاجذبہ رکھنے والے لوگ ڈاکٹر جروان کو ’سعودی عرب میں انسداد کینسر کا سفیر‘ قرار دیتے ہیں۔ وہ اپنے ایک مشہور جملے ’اپنے سپنوں کے لیے اس وقت تک لڑتے رہو جب تک ان کی تعبیر نہیں پا لیتے‘۔ میں بھی امید کا پیغام دیتے ہیں۔ یہ جملہ اس کی زندگی میں پیش آنے والی مشکلات میں اس کے اپنے طرز عمل کا ترجمان ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سےگفتگو کرتے ہوئے باہمت سعودی پی ایچ ڈی نوجوان حمد بن جروان نے کہا کہ میری بیماری کی کہانی اس وقت سے شروع ہوئی جب میں یونیورسٹی میں ریاضی کے مضمون میں گریجوایشن کررہا تھا۔ میں ابھی یونیورسٹی کے آخری مرحلے میں تھا جب میرے جسم کے اعصابی نظام میں تکلیف شروع ہوئی۔ ڈاکٹروں کو چیک کروایا تو پتا چلا کہ میں پٹھوں کے کینسر کا شکار ہوں۔ پھر یہ بیماری ریڑھ کی ہڈی میں پھیل گئی۔ یہ ایک انتہائی خطرناک اور بدترین بیماری تھی مگر میں نے ہمت اور خدا پر بھروسے کے ساتھ اس کا سامنا کیا۔ میں اب بھی شفا یابی کی امید لیے اس سے لڑ رہا ہوں۔

بن جروان نے اپنی کہانی جاری رکھی۔ اس نےکہا کہ میں ڈیڑھ سال تک اسپتال میں رہا۔ کیموتھراپی ، تابکاری اور آپریشن کے مراحل سے گذرا۔ اس دوران تعلیم کا عمل معطل ہوگیا مگرعلاج کا سفر جاری رہا۔ ضروری علاج کے بعد میں نے اپنی یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کی۔ اس دوران کینسراعصاب میں منتقل ہوگیا۔ اس کے بعد سرجری ضروری ہوگئی تھی لیکن میں نے (بیماری) نامی چیز کو بھولنے کا فیصلہ کیا۔ میں ریاضی میں بی اے حاصل کرنے تک اپنی زندگی پڑھائی کے لیے وقف کردی۔

اس نے کہا کہ زندگی اور کام کو جاری رکھنے کے لیے میں نے قریات گورنریٹ میں تدریس شروع کی۔ اس کے بعد اردن کی یرموک یونیورسٹی میں تعلیم جاری رکھی۔ اس دوران کیمو تھراپی کے ذریعے ماہانہ بینادوں پر علاج جاری رہا۔ یہ سلسلہ 3 سال تک اس حالت میں چلتا رہا۔ اس کے بعد ریاضی میں ماسٹر ڈگری کےلیے جدو جہد شروع کردی۔ جب بیماری شدت اختیار کرنے لگی تو میں قریات چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ماسٹر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد میں نے ملائیشیا میں ڈاکٹریٹ کےلیے جانے کا فیصلہ کیا مگرسفر سے قبل ریاض کے ڈاکٹروں نے مجھے بتایا کہ خون ، ٹیومر ، علاج اور چلنے کی صلاحیت میں مجھے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے مگر میں اپنے ارادے پر قائم رہا۔

پی ایچ ڈی کا خواب پورا ہوا

بن جروان ڈاکٹریٹ کا اعلیٰ تعلیمی درجہ حاصل کرکے اپنی کہانی سے امید کا پیغام دینا چاہتا تھا اور وہ اس میں کامیاب رہا۔ اس نے اپنی ہمت افروز کہانی تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شائع کرنا شروع کردی۔ اس نے علاج میں مشکلات کے باوجود زندگی کے تقاضوں کو جاری رکھنے کا سبق دیا۔ اس نے لکھا کہ انسان کو اپنے پروردگار کی منشا پرخوش رہتے ہوئے طاقت، ایمان اورعزم کی دعا مانگنی چاہیے۔ یہی کچھ اس نے کیا اور آخر کار اس نے بیماری اور پردیس کے باوجود اعلیٰ تعلیم کے مرتبے تک پہنچنے کا خواب شرمندہ تعبیر کرلیا۔

ڈاکٹر جروان نے کہا کہ میں اپنے کیریئر اور اپنے تجربے کے دوران میں مریضوں میں امید کا جذبہ پیدا کرنے اور انہیں زندگی کی طرف بلانے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں زور دیتا ہوں کہ ہمیں خدا تقسیم پر راضی رہنا چاہیے۔ میں یہ سوچ کر مطمئن رہتا ہوں ، امید کے چراغ اپنے پیچھے چھوڑتا ہوں۔ میرے پیچھے چلنے والوں کے لیے یہ چراغ روشنی اور امید پیدا کرتے ہیں۔

اپنی کتاب کی اشاعت کے مواد کے بارے میں اس نے کہا کہ کہ کتاب میں تھائی لینڈ میں علاج کے پہلے کے سفر کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ اس نےکتاب کو "میں اور کینسر .. درد اور امید" کا نام دیا۔ اس کتاب میں اس نے بیماری کی تشخیص سے لے کرپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے تک کا تفصیلی احوال بیان کیا ہے۔ اس کتاب کی 2000 کاپیاں شائع کی گئیں جن میں سے بیشتر فروخت ہوچکی ہیں۔ اب وہ ایک نئی کتاب "زندگی کے ساتھ موافقت" پر کام کر رہا ہے۔