.

ایران سے جوہری مذاکرات تین ہفتوں بعد دوبارہ شروع ہوں گے:العربیہ ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ اور الحدث ٹی وی چینلوں کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر ویانا مذاکرات 3 ہفتوں کے بعد دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت میں مذاکراتی ٹیم کے تعین میں اختلاف پایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے مذاکرات تاخیر کا شکار ہیں۔

ایرانی حکومت عباس عراقچی کی جگہ ایک اور عہدیدار کو ان کی جگہ مقرر کرنا چاہتی ہے جس کی وجہ سے مذاکرات کی بحالی میں مزید تاخیر ہوسکتی ہے۔

العربیہ اور الحدث ذرائع کے مطابق مذاکرات وہیں سے شروع ہوں گے جہاں پر ختم ہوئے تھے۔ جن امور پر اتفاق رائے ہوچکا ہے ان پر مزید بات نہیں کی جائے گی۔

سابق ایرانی صدر حسن روحانی کی سبکدوشی سے قبل ویانا میں جاری مذاکرات کا چھٹا دور 20 جون کو ہوا تھا۔ اس کے بعد مذاکرات کا عمل معطل ہے۔ روس ایران کو مذاکرات کی طرف لانے کے لیے ہرممکن کوشش کررہا ہے۔

ایرانی فارس نیوز ایجنسی نے بدھ کے روز بتایا کہ ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں کے لیے ایران کے نمائندے کاظم غریب آبادی نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ایک اجلاس میں کہا کہ ایران پر پابندیاں جاری رہنے کی صورت میں تہران سے ’تحمل‘ کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

ایرانی مندوب نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ایران سے تحمل اور تعمیری اقدامات کی توقع نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے جوہری معاہدے سے دستبرداری زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی اپناتے اور پابندیوں کو بحال کرتے ہوئے کی جوکہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ امریکی پابندیوں سے ایران کے ساتھ تجارتی اور معاشی تعلقات پر براہ راست اور تباہ کن اثرات پڑے ہیں۔