.

سعودی عرب میں غیرملکی خاتون کے قتل میں ملوث مصری مُجرم کا سرقلم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ غیرقانونی طورپر مُملکت میں مقیم ایک خاتون کا گلا گھونٹ کراور اس کی لاش کوآگ میں جلا کرثبوت مٹانے کے جرم میں ملوث مصری مجرم کو قصاص میں دی گئی سزائے موت پرعمل درآمد کردیا گیا ہے۔

مصری مُجرم عصام محمد ھلال علی نے کچھ عرصہ قبل غیرقانونی طورپر مملکت میں مقیم عائشہ مصطفیٰ محمد البرناوی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گلا گھونٹ کراسے موت کی نیند سلا دیا تھا۔ مُجرم نے قتل کے بعد خاتون کی لاش بھی جلا دی تھی تاکہ قتل کے ثبوت مٹائے جاسکیں۔

وزارت داخلہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزم کوخاتون کے قتل کےالزام میں گرفتار کیا گیا اور اس پر فوج داری عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ تمام شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ ملزم کی طرف سے اقبال جرم کے بعد مجرم کو قصاص میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ملزم کی طرف سے سزا کے خلاف اپیل کی تھی تاہم اپیل عدالت نے فوج داری عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کردی تھی۔ شاہی فرمان میں بھی مجرم کی سزا بر قرار رکھی گئی۔ کل بدھ کو مدینہ منورہ کی ایک جیل میں مجرم عصام کا سرقلم کردیا گیا۔