.

ایرانی ایندھن کی آمد کی خوشی،حزب اللہ عناصر نے’آر پی جی‘ راکٹ چلا دیئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ایندھن سے لدے درجنوں ٹرک کل جمعرات کو لبنان میں داخل ہوئے۔اس موقعے پر تہران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے حامیوں کے حیران کن ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر سامنے آئے ہیں جن میں انہیں ایرانی ایندھن کی آمد کی خوشی میں ’آر پی جی‘ راکٹ فائر کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

لبنانی شہریوں نے سوشل میڈیا پر حزب اللہ کے حامیوں کو سڑکوں کے درمیان اور شہریوں کے گھروں کے قریب فائرنگ کرتے دکھایا۔ حزب اللہ عناصر شہری آبادی کے اندر راکٹ چلانے کے خطرات سے بے خوف دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے راکٹ باری کے دوران شہری آبادی کوبھی خاطر میں نہیں لایا۔

ان میں سے کچھ نے شہری آبادی والے علاقوں میں براہ راست فائرنگ کی اور شام کی بانیاس کراسنگ سے لبنان میں ایندھن لے کرداخل ہونے والے قافلوں کو دیکھ کرآر پی جی راکٹ چلائے۔

غیر قانونی کراسنگ

اے ایف پی کے نامہ نگار کے مطابق شام کی نمبر پلیٹوں والے درجنوں ٹینکر جمعرات کی صبح کے وقت ملک کے مشرقی علاقے الہرمل میں داخل ہوئے۔

بعلبک شہر کی مرکزی شاہراہ پر حزب اللہ کے درجنوں عناصر ایندھن کی آمد کی خوشی کا جشن منانے کے لیے جمع ہوئے۔ ان میں سے کچھ نے حزب اللہ کے جھنڈے اٹھائے ، چاول اور گلاب پھینکے۔

قافلے میں 80 آیل ٹینکر شامل تھے۔ یہ مجموعی طورپر40 لاکھ لیٹرایندھن لے کر بعلبک شہر پہنچایا جسے "الآمانہ" اسٹیشنوں کے گوداموں پر اتارا گیا۔ یہ پٹرول اسٹیشن حزب اللہ کی ملکیت ہیں اور 2020 سے امریکی پابندیوں کی فہرست میں درج ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ حزب اللہ ملک میں سیکیورٹی فورسز کے اختیار سے باہر کی فوجی طاقت ہے۔ اس نے 19 اگست کو تہران سے ایندھن درآمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس کے اس اعلان پر لبنان میں سیاسی مخالفین نے اس کی شدید مذمت کی تھی۔